المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ باب: سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے گزرنے نہ دو۔
حدیث نمبر: 840
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا الضحَّاك بن عثمان، حدثني صَدَقة بن يَسَار، سمعتُ ابنَ عمر يقول: قال رسول الله ﷺ: "لا تُصلُّوا إلّا إلى سُتْرة، ولا تَدَعْ أحدًا يمرُّ بين يديكَ، فإن أَبَى فقاتِلْه فإنَّ معه القرينَ" (2).
هذا حديث على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 921 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سترا (آڑ) کے بغیر نماز نہ پڑھو اور اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دو، اگر وہ نہ مانے تو اسے سختی سے روکو کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي من أجل الضحاك بن عثمان. أبو بكر الحنفي: هو عبد الكبير بن عبد المجيد.
درجۂ حدیث: (2) ضحاک بن عثمان کی وجہ سے سند قوی ہے۔
فنی نکتہ: ابوبکر الحنفی سے مراد عبدالکبیر بن عبدالمجید ہیں۔
وأخرجه مسلم (506) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه -، وابن حبان (2362) و (2369) من طريق محمد بن بشار، كلاهما عن أبي بكر الحنفي، بهذا الإسناد. ولم يسق مسلم لفظه وأحال على لفظ سابق ليس فيه "لا تصلُّوا إلّا إلى سترة".
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (506) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) سے اور ابن حبان (2362) نے محمد بن بشار سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام مسلم نے مکمل الفاظ ذکر نہیں کیے، صرف حوالہ دیا ہے جس میں "سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو" کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد (9/ 5585)، ومسلم (506) (260)، وابن ماجه (955)، وابن حبان (2370) من طريق محمد بن إسماعيل بن أبي فُديك، عن الضحاك بن عثمان، به - دون ذكر السُّترة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (5585/9)، مسلم (506/260)، ابن ماجہ (955) اور ابن حبان (2370) نے ابن ابی فدیک عن الضحاک کی سند سے "سترے" کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
قوله: "فقاتِلْه" المراد بالمقاتلة هنا الدَّفْع أشدَّ الدفع، وليس القتال حقيقةً.
(توضیح): "فقاتِلْہ" (اس سے لڑو) سے مراد یہاں اسے پوری قوت سے روکنا ہے، حقیقی لڑائی مراد نہیں ہے۔
درجۂ حدیث: (2) ضحاک بن عثمان کی وجہ سے سند قوی ہے۔
فنی نکتہ: ابوبکر الحنفی سے مراد عبدالکبیر بن عبدالمجید ہیں۔
وأخرجه مسلم (506) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه -، وابن حبان (2362) و (2369) من طريق محمد بن بشار، كلاهما عن أبي بكر الحنفي، بهذا الإسناد. ولم يسق مسلم لفظه وأحال على لفظ سابق ليس فيه "لا تصلُّوا إلّا إلى سترة".
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (506) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) سے اور ابن حبان (2362) نے محمد بن بشار سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام مسلم نے مکمل الفاظ ذکر نہیں کیے، صرف حوالہ دیا ہے جس میں "سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو" کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد (9/ 5585)، ومسلم (506) (260)، وابن ماجه (955)، وابن حبان (2370) من طريق محمد بن إسماعيل بن أبي فُديك، عن الضحاك بن عثمان، به - دون ذكر السُّترة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (5585/9)، مسلم (506/260)، ابن ماجہ (955) اور ابن حبان (2370) نے ابن ابی فدیک عن الضحاک کی سند سے "سترے" کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
قوله: "فقاتِلْه" المراد بالمقاتلة هنا الدَّفْع أشدَّ الدفع، وليس القتال حقيقةً.
(توضیح): "فقاتِلْہ" (اس سے لڑو) سے مراد یہاں اسے پوری قوت سے روکنا ہے، حقیقی لڑائی مراد نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 840 سے ماخوذ ہے۔