حدیث نمبر: 8346
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدِّمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن محمد طلحة بن يزيد (2) ابن رُكانة، عن أمِّه عائشةَ بنت مسعود، عن أبيها مسعود قال: لما سرقَتْ تلك المرأةُ القطيفةَ من بيتِ رسول الله ﷺ، أعظَمنا ذلك، وكانت امرأةً من قريش، فجئنا رسول الله ﷺ فكلَّمناه، فقلنا: يا رسولَ الله، نحن نَفْدِيها بأربعينَ أُوقِيَّة، قال: "تُطهَّرُ خيرٌ لها"، فلمَّا سَمِعْنا من قولِ رسول الله ﷺ أتَينا أسامةَ بن زيد، فقلنا: اشفَعْ لنا إلى رسولِ الله ﷺ في شأنِ هذه المرأة، نحن نَفْدِيها بأربعينَ وُقيَّة، فلمَّا رأى رسولُ الله ﷺ جِدَّ الناسِ في ذلك قام خطيبًا، فقال: "يا أيها الناسُ، ما إكثارُكم في حدٍّ من حدودِ الله وَقَعَ على أَمَةٍ مِن إماءِ الله؟! والذي نفسُ محمدٍ بيده، لو كانت فاطمةُ بنتُ محمد نَزلَتْ بالذي نَزلَتْ به هذه المرأةُ لقَطَعَ محمدٌ يدَها". قال: فأيسَ الناسُ، وقَطَع رسولُ الله ﷺ يدَها. قال محمد بن إسحاق: فحدَّثني عبد الله بن أبي بكر: أنَّ رسول الله ﷺ بعد ذلك كان يَرحَمُها ويَصِلُها (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کے گھر سے مخمل کی چادر (قطیفہ) چوری کی تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، وہ قریش کی ایک خاتون تھی، پس ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بات کی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اس کے بدلے چالیس اوقیہ فدیہ دیتے ہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (حد کے ذریعے) پاک ہو جانا اس کے لیے بہتر ہے“، جب ہم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنا تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”آپ اس عورت کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ہماری سفارش کریں، ہم اس کے بدلے چالیس اوقیہ فدیہ دینے کو تیار ہیں“، جب رسول اللہ ﷺ نے اس معاملے میں لوگوں کی حد درجہ کوشش دیکھی تو آپ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں اللہ کی حدود میں سے ایک ایسی حد کے بارے میں اتنی زیادہ گفتگو کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر واجب ہو چکی ہے؟! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی اس کام کا ارتکاب کرتیں جس کا اس عورت نے کیا ہے تو محمد ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر لوگ مایوس ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابوبکر نے بتایا کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اس عورت پر رحم فرماتے تھے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8346
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس ورواه بالعنعنة، وذهل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 21/ 469» [ترقيم الرساله 8346] [ترقيم الشركة 8247] [ترقيم العلميه 8147]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: شداد.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شداد" بن گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف؛ محمد بن إسحاق مدلس ورواه بالعنعنة، وذهل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 21/ 469 - 470 حيث توهم أنَّ ابن إسحاق صرَّح بالتحديث عند الحاكم، وحسّن الإسناد، وقد اختُلف في إسناده على ابن إسحاق كما أشار البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 421 - 422، فمرةً يجعله: محمد عن عمته، ومرةً: عن أمه، ومرةً: عن خالته.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق "مدلس" ہیں اور انہوں نے یہ روایت "عنعنہ" (لفظ ’عن‘ کے ساتھ) بیان کی ہے۔ حافظ ابن حجر کو "فتح الباری" 21/ 469 - 470 میں وہم (ذہول) ہوا ہے جہاں انہوں نے یہ گمان کیا کہ ابن اسحاق نے مستدرک حاکم میں سماع کی تصریح (تحدیث) کر رکھی ہے، اور یوں انہوں نے سند کو حسن قرار دے دیا (حالانکہ ایسا نہیں ہے)۔ نیز ابن اسحاق پر اس کی سند بیان کرنے میں اختلاف بھی کیا گیا ہے جیسا کہ امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 7/ 421 - 422 میں اشارہ کیا ہے؛ چنانچہ وہ کبھی اسے "محمد (بن اسحاق) عن عمتہ" (پھوپھی سے)، کبھی "عن امہ" (والدہ سے) اور کبھی "عن خالتہ" (خالہ سے) روایت کرتے ہیں۔
ونقل أهل الأخبار كابن إسحاق نفسه - كما في "سيرة ابن هشام" 2/ 388 - والواقدي في "مغازيه" 2/ 769: أنَّ مسعود بن الأسود - والد عائشة - استُشهد يوم مؤتة، وقصة المخزومية إنما كانت بعدها في فتح مكة كما في "صحيح البخاري" (4304)، فلم يُدركها مسعود.
فنی نکتہ / علّت: مؤرخین (اہل الاخبار) نے نقل کیا ہے، جیسے کہ خود ابن اسحاق نے — "سیرت ابن ہشام" 2/ 388 میں — اور واقدی نے "المغازی" 2/ 769 میں کہ: (راویہ) عائشہ کے والد مسعود بن اسود غزوہ موتہ کے دن شہید ہو گئے تھے، جبکہ (اس حدیث میں مذکور) مخزومی عورت کا واقعہ اس کے بعد "فتح مکہ" کے موقع پر پیش آیا تھا جیسا کہ "صحیح بخاری" (4304) میں ہے۔ لہذا مسعود نے اس واقعے کا زمانہ نہیں پایا (پس سند منقطع ہے)۔
وأخرجه ابن ماجه (2548) من طريق عبد الله بن نمير، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اور اسے ابن ماجہ (2548) نے عبد اللہ بن نمیر کے طریق سے، محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8346 سے ماخوذ ہے۔