المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا باب: عورت قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے اگر قمیص لمبی ہو اور پاؤں کی پشت کو ڈھانپتی ہو۔
حدیث نمبر: 834
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء، حدثنا صفوان بن صالح الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد التَّميمي، حدثنا زيد بن أسلمَ قال: رأيتُ ابنَ عمر يصلِّي محلولٌ إزارُه، فسألتُه عن ذلك فقال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يفعلُه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 916 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے تہبند کے بندھن کھلے ہوئے تھے، میں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، زهير بن محمد رواية أهل الشام عنه غير مستقيمة وهذا منها، وقد ذكر هذا الحديث الترمذيُّ في "العلل الكبير" (713) ونقل إعلاله عن محمد - وهو البخاري -.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔
علّت / فنی نکتہ: زہیر بن محمد سے اہل شام کی روایات درست (مستقیم) نہیں ہوتیں اور یہ بھی انہی میں سے ہے۔ امام بخاری نے بھی اسے معلول (نقص والا) قرار دیا ہے (العلل الکبیر للترمذی 713)۔
وأخرجه ابن حبان (5453) عن محمد بن الحسن بن قتيبة، عن صفوان بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5453) نے محمد بن حسن بن قتیبہ عن صفوان بن صالح کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔
علّت / فنی نکتہ: زہیر بن محمد سے اہل شام کی روایات درست (مستقیم) نہیں ہوتیں اور یہ بھی انہی میں سے ہے۔ امام بخاری نے بھی اسے معلول (نقص والا) قرار دیا ہے (العلل الکبیر للترمذی 713)۔
وأخرجه ابن حبان (5453) عن محمد بن الحسن بن قتيبة، عن صفوان بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5453) نے محمد بن حسن بن قتیبہ عن صفوان بن صالح کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 834 سے ماخوذ ہے۔