المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا باب: عورت قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے اگر قمیص لمبی ہو اور پاؤں کی پشت کو ڈھانپتی ہو۔
حدیث نمبر: 833
أخبرنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا مجاهد بن موسى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن محمد بن زيد بن قُنفُذ، عن أمِّه (3)، عن أم سلمة: أنها سأَلَت النبيَّ ﷺ: أتصلِّي المرأة في دِرْعٍ، وخِمار ليس عليها إزار؟ قال: "إذا كان الدِّرعُ سابغًا يُغطِّي ظُهورَ قَدَميها" (4).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 915 - على شرط البخاريحافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کیا عورت قمیص اور دوپٹے میں نماز پڑھ سکتی ہے جبکہ اس نے (نیچے) تہبند نہ پہنا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں، بشرطیکہ قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے پاؤں کی پشت کو چھپا لے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في النسخ الخطية عن أبيه، وهو تحريف، والتصويب من "إتحاف المهرة" 18/ 224 ومن "السنن الكبرى" للبيهقي 2/ 233 حيث رواه عن المصنف بهذا الإسناد، وكذلك وقع عند أبي داود في "سننه" (640) حيث رواه عن مجاهد بن موسى بهذا الإسناد، واسم أمِّه أم حرام وقع التصريح به في رواية إسماعيل بن جعفر كما في "أحاديثه" لعلي بن حُجْر السعدي (445) - ومن طريقه ابن بشكوال في "غوامض الأسماء المبهمة" 2/ 739 - عن محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفذ عن أم حرام أنها سألت أم سلمة … فذكره موقوفًا، ورواه مالك بن أنس عن محمد بن زيد فقال فيه أيضًا: عن أمه، ووقفه أيضًا، أخرجه أبو داود (639).
علّت / فنی نکتہ: (3) خطی نسخوں میں "عن ابیہ" (اپنے والد سے) ہے جو تحریف ہے، درست "عن امہ" (اپنی والدہ سے) ہے (اتحاف المہرہ 224/18)۔ ابوداؤد (640) اور بیہقی نے بھی اسی سند سے اسے روایت کیا ہے۔ والدہ کا نام "ام حرام" ہے جس کی تصریح اسماعیل بن جعفر کی روایت میں موجود ہے۔ امام مالک نے بھی اسے "عن امہ" کہہ کر موقوفاً روایت کیا ہے (ابوداؤد 639)۔
(4) صحيح موقوفًا، وهذا إسناد فيه ضعف، عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار فيه لِين، وقد خولف في رفع هذا الحديث، خالفه جمع من الثقات منهم مالك عند أبي داود (639) فأوقفوه على أم سلمة، وهو الصواب كما قال الدارقطني في "العلل" 15/ 251 (4000).
درجۂ حدیث: (4) موقوفاً (صحابیہ کے قول کے طور پر) یہ صحیح ہے، مگر اس کی اس سند میں ضعف ہے کیونکہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
سندی اختلاف: ثقہ راویوں کی جماعت (بشمول امام مالک) نے اسے حضرت ام سلمہ پر موقوف کیا ہے اور امام دارقطنی کے نزدیک یہی (موقوف ہونا) درست ہے۔
والمرفوع أخرجه أبو داود (640) عن مجاهد بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مرفوعاً ابوداؤد (640) نے مجاہد بن موسیٰ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
علّت / فنی نکتہ: (3) خطی نسخوں میں "عن ابیہ" (اپنے والد سے) ہے جو تحریف ہے، درست "عن امہ" (اپنی والدہ سے) ہے (اتحاف المہرہ 224/18)۔ ابوداؤد (640) اور بیہقی نے بھی اسی سند سے اسے روایت کیا ہے۔ والدہ کا نام "ام حرام" ہے جس کی تصریح اسماعیل بن جعفر کی روایت میں موجود ہے۔ امام مالک نے بھی اسے "عن امہ" کہہ کر موقوفاً روایت کیا ہے (ابوداؤد 639)۔
(4) صحيح موقوفًا، وهذا إسناد فيه ضعف، عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار فيه لِين، وقد خولف في رفع هذا الحديث، خالفه جمع من الثقات منهم مالك عند أبي داود (639) فأوقفوه على أم سلمة، وهو الصواب كما قال الدارقطني في "العلل" 15/ 251 (4000).
درجۂ حدیث: (4) موقوفاً (صحابیہ کے قول کے طور پر) یہ صحیح ہے، مگر اس کی اس سند میں ضعف ہے کیونکہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
سندی اختلاف: ثقہ راویوں کی جماعت (بشمول امام مالک) نے اسے حضرت ام سلمہ پر موقوف کیا ہے اور امام دارقطنی کے نزدیک یہی (موقوف ہونا) درست ہے۔
والمرفوع أخرجه أبو داود (640) عن مجاهد بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مرفوعاً ابوداؤد (640) نے مجاہد بن موسیٰ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 833 سے ماخوذ ہے۔