المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ باب: منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی ہے۔
حدیث نمبر: 826
فحدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا جعفر بن موسى النَّيسابوري ببغداد، حدثنا علي بن بكَّار المِصِّيصي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان، عن أبي إسحاق، عن العَيْزار بن حريث، عن أبي بَصِير قال: قال أُبيُّ بن كعب: صلَّى بنا رسولُ الله ﷺ ذاتَ يومٍ الغَدَاةَ، فلمَّا سلَّمَ قال: "أشاهدٌ فلانٌ؟ " فذكر الحديث (1). وأما حديث أبي الأحوَص:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دن صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو پوچھا: ”کیا فلاں حاضر ہے؟“ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن كما سبق، وذكر العيزار بن حريث فيه بين أبي إسحاق وأبي بصير وهمٌ لعله من علي بن بكّار، والمحفوظ عن سفيان - وهو الثوري - عدمُ ذكره في الإسناد، والعيزار ثقة. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد.
درجۂ حدیث: حدیث حسن ہے، علّت / فنی نکتہ: مگر اس میں ابواسحاق اور ابوبصیر کے درمیان "عیزار بن حریث" کا ذکر کرنا وہم معلوم ہوتا ہے، شاید یہ علی بن بکار کا وہم ہے، کیونکہ سفیان ثوری کی محفوظ روایت میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ عیزار خود ثقہ ہیں۔ ابواسحاق الفزاری سے مراد ابراہیم بن محمد ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 9/ 321 من طريق علي بن بكار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "الحلیہ" (321/9) میں علی بن بکار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث حسن ہے، علّت / فنی نکتہ: مگر اس میں ابواسحاق اور ابوبصیر کے درمیان "عیزار بن حریث" کا ذکر کرنا وہم معلوم ہوتا ہے، شاید یہ علی بن بکار کا وہم ہے، کیونکہ سفیان ثوری کی محفوظ روایت میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ عیزار خود ثقہ ہیں۔ ابواسحاق الفزاری سے مراد ابراہیم بن محمد ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 9/ 321 من طريق علي بن بكار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "الحلیہ" (321/9) میں علی بن بکار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 826 سے ماخوذ ہے۔