المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
مَنْ سَمِعَ الصَّلَاةَ يُنَادَى بِهَا صَحِيحًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلَمْ يَأْتِهَا لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً فِي غَيْرِهَا باب: جو شخص صحت مند ہو، بغیر عذر نماز کی پکار سنے اور مسجد نہ آئے تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔
حدیث نمبر: 816
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو الفضل جعفر بن محمد بن إبراهيم الصَّيدَلاني ببغداد، حدثنا الحسن بن عبد العزيز الجَرَويّ، حدثنا يحيى بن حسّان، حدثنا سليمان بن قَرْم، عن أبي جَنَاب، عن عَدِيّ بن ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "من سَمِعَ الصلاةَ يُنادَى بها صحيحًا من غير عُذْر، فلم يأتِها، لم يَقبَلِ اللهُ له صلاةً في غيرها" قيل: وما العذرُ؟ قال: "المرضُ والخوف" (2). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی اور وہ تندرست بھی تھا اور اسے کوئی عذر بھی نہیں تھا، پھر بھی (جماعت میں) نہ آیا، تو اللہ اس کی وہ نماز (جو اس نے اکیلے پڑھی) قبول نہیں فرمائے گا۔“ پوچھا گیا: عذر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیماری اور خوف۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف أبي جناب، وسليمان بن قرم سيئ الحفظ وقد أسقط من إسناده مغراءَ العبدي. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (2) ابوجناب کے ضعف اور سلیمان بن قرم کے خراب حافظے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، نیز انہوں نے سند سے "مغراء العبدی" کا نام گرا دیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) ابوجناب کے ضعف اور سلیمان بن قرم کے خراب حافظے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، نیز انہوں نے سند سے "مغراء العبدی" کا نام گرا دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 816 سے ماخوذ ہے۔