حدیث نمبر: 8140
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا موسى بن داود الضَّبّي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، عن يحيى بن سعيد، عن أبي مسلم الخَوْلاني، عن عُبيد بن عُمير، عن أبي ذرّ قال: قال لي رسول الله ﷺ: "القبورُ تذكِّرُ زائريها الآخرةَ، واغسِلِ الموتَى، فإِنَّ مُعالجةَ جسدٍ خاوٍ موعظةٌ بليغةٌ، وصلِّ على الجنائز لعلَّ ذلك أن يَحزُنَك، فإنَّ الحزينَ في ظلِّ الله يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7941 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”قبریں اپنے زائرین کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں، اور مردوں کو غسل دیا کرو کیونکہ ایک بے جان جسم کی دیکھ بھال کرنا بڑی مؤثر نصیحت ہے، اور جنازوں کی نماز پڑھا کرو شاید یہ تمہیں غمگین (فکرمند) کر دے، کیونکہ غمگین رہنے والا قیامت کے دن اللہ کے سائے میں ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8140
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، كما قال الذهبي، ومتنه منكر كما قال البيهقي» [ترقيم الرساله 8140] [ترقيم الشركة 8040] [ترقيم العلميه 7941]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، كما قال الذهبي، ومتنه منكر كما قال البيهقي. يحيى بن سعيد لم يدرك أبا مسلم الخولاني، بينهما رجل مبهم كما سبق بيانه برقم (1411).
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے (جیسا کہ ذہبی نے کہا)، اور اس کا متن "منکر" ہے (جیسا کہ بیہقی نے کہا)۔
فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سعید نے ابو مسلم الخولانی کا زمانہ نہیں پایا، ان دونوں کے درمیان ایک "مبہم آدمی" ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (1411) پر بیان ہو چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8140 سے ماخوذ ہے۔