المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
مَنْ تَشَاعَبَتْ بِهِ الْهُمُومُ لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَةِ الدُّنْيَا هَلَكَ باب: جس کے غم (دنیا کی فکریں) بکھر جائیں، اللہ کو اس کی پرواہ نہیں کہ وہ دنیا کی کس وادی میں ہلاک ہو جائے
حدیث نمبر: 8138
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمر، عن عبد الكريم، عن طاووس قال: قال رجلٌ: يا نبيَّ الله، إني أقفُ المَوقِفَ أبْتَغي وجهَ الله وأُحبُّ أن يُرَى مَوطِني. قال: فلم يَرُدَّ عليه رسولُ الله ﷺ حتى نزلَتْ ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا﴾ الآية [الكهف: 110] (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7939 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک ایسی جگہ (نیکی کے لیے) کھڑا ہوتا ہوں جہاں میرا مقصد اللہ کی رضا پانا ہوتا ہے لیکن میں یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ میرا وہ مقام (لوگوں کو) نظر آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ”پس جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے۔“ [سورة الكهف: 110]
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لإرساله، ورجاله ثقات. وقد سبق الكلام عليه برقم (2559).
درجۂ حدیث: اس کی سند مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، (اگرچہ) اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اس پر کلام پیچھے نمبر (2559) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، (اگرچہ) اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اس پر کلام پیچھے نمبر (2559) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8138 سے ماخوذ ہے۔