المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
مَنْ تَشَاعَبَتْ بِهِ الْهُمُومُ لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَةِ الدُّنْيَا هَلَكَ باب: جس کے غم (دنیا کی فکریں) بکھر جائیں، اللہ کو اس کی پرواہ نہیں کہ وہ دنیا کی کس وادی میں ہلاک ہو جائے
حدیث نمبر: 8134
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا خالد بن خِدَاش الزُّهْري، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن درَّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ: "لو أنَّ أحدكم عَمِلَ في صخرةٍ صمَّاءَ لا بابَ لها ولا كُوَّة، لأخرجَ اللهُ عمله كائنًا ما كان" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی ٹھوس چٹان کے اندر بھی عمل کرے جس کا نہ کوئی دروازہ ہو اور نہ ہی کوئی سوراخ، تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو (لوگوں کے سامنے) ظاہر کر دے گا، خواہ وہ عمل کیسا ہی کیوں نہ ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده ضعيف من أجل دراج: وهو ابن سمعان. وقد سلف برقم (8075).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا سبب دراج (ابن سمعان) ہے، اور یہ پیچھے نمبر (8075) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا سبب دراج (ابن سمعان) ہے، اور یہ پیچھے نمبر (8075) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8134 سے ماخوذ ہے۔