المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ باب: جس نے اذان سنی اور بغیر عذر مسجد نہ آیا اس کی نماز نہیں۔
حدیث نمبر: 813
ما حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو محمد إسماعيل بن يعقوب بن إسماعيل الصَّفّار بالبصرة، حدثنا سَوَّار بن سهل البصري، حدثنا سعيد بن عامر، عن شُعبة، عن عدي بن ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سَمِعَ النداءَ فلم يأتِه، فلا صلاةَ له إلّا من عُذْر" (2). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 894 - تابعه داود بن الحكم عن شعبةحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی اور (مسجد) نہ آیا، تو اس کی کوئی نماز نہیں سوائے کسی عذر کے۔“
یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح موقوفًا، وهذا إسناد محتمل للتحسين على خلاف في رفعه ووقفه والموقوف أصح كما سبق، سوَّار بن سهل روى عنه أبو داود في "حديث مالك"، وقال لما سأله أبو عبيد الآجري عنه: لو لم أثق به ما رويت عنه وقال ابن حبان في "ثقاته": يُغرِب، وقال المِزّي فيما نقله عنه ابن عبد الهادي في "تنقيح التحقيق" (1128): لا يُعرَف، وقال الذهبي في "الكاشف": لا يدرى من هو والظاهر أنه صدوق، وقال ابن حجر في "التقريب": صدوق. قلنا: ومن فوقه ثقات، وسعيد ابن عامر - وهو الضُّبَعي البصري - على ثقته قال أبو حاتم الرازي: كان في حديثه بعض الغلط.
درجۂ حدیث: (2) موقوفاً یہ روایت صحیح ہے۔
علّت / فنی نکتہ: سوار بن سہل کی وجہ سے اس کی سند حسن کے درجے میں آتی ہے۔ ان کے بارے میں ابوداؤد نے اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ علامہ ذہبی اور ابن حجر نے انہیں صدوق (سچا) قرار دیا ہے۔ سعید بن عامر الضبعی اگرچہ ثقہ ہیں مگر ابوحاتم کے بقول ان کی حدیث میں کچھ غلطی ہو جاتی تھی۔
درجۂ حدیث: (2) موقوفاً یہ روایت صحیح ہے۔
علّت / فنی نکتہ: سوار بن سہل کی وجہ سے اس کی سند حسن کے درجے میں آتی ہے۔ ان کے بارے میں ابوداؤد نے اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ علامہ ذہبی اور ابن حجر نے انہیں صدوق (سچا) قرار دیا ہے۔ سعید بن عامر الضبعی اگرچہ ثقہ ہیں مگر ابوحاتم کے بقول ان کی حدیث میں کچھ غلطی ہو جاتی تھی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 813 سے ماخوذ ہے۔