حدیث نمبر: 811
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا يزيد بن الهيثم، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجعي، عن سفيان، عن يعلى بن عطاء، عن جابر بن يزيد بن الأسوَد، عن أبيه قال: صلَّيتُ مع رسول الله ﷺ، بمِنى، فلمَّا سلَّمَ أبصَرَ رجلين في أواخر الناس فدَعَاهما، فقال: "ما مَنَعَكما أن تُصلِّيا مع الناس؟ " فقالا: يا رسول الله، صلَّينا في الرِّحَال، قال: "فلا تَفعَلا، إذا صلَّى أحدُكم في رَحْلِه ثم أدرك الصلاة مع الإمام، فليُصلِّها معه، فإنها له نافلةٌ" (3).
هذا حديث رواه شُعْبة وهشام بن حسَّان وغَيْلان بن جامع وأبو خالد الدَّالاني وأبو عَوَانة وعبد الملك بن عُمَير ومبارَك بن فَضَالة وشَرِيك بن عبد الله وغيرهم عن يعلى بن عطاء، وقد احتَجَّ مسلم بيعلى بن عطاء.
حافظ طلحہ بابر

جابر بن یزید بن اسود اپنے والد (یزید بن اسود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ میں نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو لوگوں کے پیچھے دو آدمیوں کو دیکھا، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا اور پوچھا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے ڈیروں (خیموں) میں نماز پڑھ لی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے پھر امام کے ساتھ نماز (کا وقت) پا لے، تو اس کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرے، یہ اس کے لیے نفل ہوگی۔“
یہ حدیث یعلی بن عطا سے مروی ہے اور امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے، اسے شعبہ اور ہشام بن حسان سمیت ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 811
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو حذيفة هو موسى بن مسعود النَّهدي، والأشجعي: هو عبيد الله بن عبد الرحمن، وسفيان: هو الثوري» [ترقيم الرساله 811] [ترقيم الشركة 899]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو حذيفة هو موسى بن مسعود النَّهدي، والأشجعي: هو عبيد الله بن عبد الرحمن، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی، الاشجعی سے مراد عبیداللہ بن عبدالرحمن اور سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 29 / (17475) عن عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17475 /29) نے عبدالرحمن بن مہدی عن سفیان الثوری کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (17474)، والترمذي (219)، والنسائي (933)، وابن حبان (1565)

و (2395) من طريق هشيم، وأحمد (17476) من طريق أبي عوانة، وأحمد (17479)، وأبو داود (575)، وابن حبان (1564) من طريق شعبة، ثلاثتهم عن يعلى بن عطاء به.

حوالہ / مصدر: اسے احمد، ترمذی (219)، نسائی (933) اور ابن حبان نے ہشیم کے طریق سے، اور احمد نے ابوعوانہ کے طریق سے، اور احمد و ابوداؤد (575) نے شعبہ کے طریق سے، ان تینوں نے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 811 سے ماخوذ ہے۔