المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ باب: اگر تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کے ساتھ نماز پا لے تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لے، وہ اس کے لیے نفل ہوگی۔
حدیث نمبر: 810
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، فذكره بنحوه.
هذا حديث صحيح، ومالكُ بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين، وقد احتَجَّ به في "الموطأ" (1)، وهو من النوع الذي قدَّمتُ ذِكرَه أنَّ الصحابي إذا لم يكن له راويان لم يخرجاه (2). وله شاهد مثلُ هذا النوع بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 891 - محجن تفرد عنه ابنهحافظ طلحہ بابر
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک بن انس مدنی احادیث کے مستند امام ہیں، یہ ان روایات میں سے ہے جہاں صحابی کا صرف ایک ہی راوی ہو جس کی وجہ سے شیخین اسے روایت نہیں کرتے، مگر اس کا شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) "الموطأ" 1/ 132.
فنی نکتہ: (1) "الموطأ" (132 /1) ملاحظہ فرمائیں۔
(2) انظر تعليقنا على هذا عند الحديث المتقدم برقم (97).
اہم نکتہ: (2) اس پر ہماری بحث سابقہ حدیث نمبر (97) کے تحت دیکھیں۔
فنی نکتہ: (1) "الموطأ" (132 /1) ملاحظہ فرمائیں۔
(2) انظر تعليقنا على هذا عند الحديث المتقدم برقم (97).
اہم نکتہ: (2) اس پر ہماری بحث سابقہ حدیث نمبر (97) کے تحت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 810 سے ماخوذ ہے۔