المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ باب: اگر تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کے ساتھ نماز پا لے تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لے، وہ اس کے لیے نفل ہوگی۔
حدیث نمبر: 809
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر بن سابق الخولاني قال: قُرئَ على عبد الله بن وهب: أخبركَ مالكُ بن أنس. وأخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الهَمَذاني بها، حدثنا إسحاق بن أحمد الخزَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعت مالك بن أنس يحدِّث عن زيد بن أسلم، عن بُسْر بن مِحجَن - رجل من بني الدِّيل - عن أبيه: أنه كان جالسًا مع رسول الله ﷺ فأُوذِنَ بالصلاة، فقام رسول الله ﷺ فصلَّى ثم رَجَعَ ومِحجَنٌ في مجلسه كما هو، فقال له رسول الله ﷺ: "ما مَنَعَك أن تصلِّيَ مع الناس، ألست برجلٍ مسلمٍ؟ " قال: بلى يا رسول الله، ولكني يا رسول الله كنت قد صلَّيتُ في أهلي، قال: "فإذا جئتَ فصلِّ مع الناس، وإن كنت قد صلَّيتَ" (1)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ نماز کے لیے پکارا گیا، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھا کر واپس آئے تو محجن اپنی جگہ پر بیٹھے رہے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن میں نے اپنے گھر والوں میں نماز پڑھ لی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم (مسجد) آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو خواہ تم پہلے پڑھ چکے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن، بسر بن محجن - وإن لم يرو عنه غير زيد بن أسلم قد توبع.
درجۂ حدیث: (1) حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ: بسر بن محجن سے اگرچہ صرف زید بن اسلم نے روایت کی ہے مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 26/ (16395)، والنسائي (932)، وابن حبان (2405) من طريق مالك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16395 /26)، نسائی (932) اور ابن حبان (2405) نے امام مالک کے طریق سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (16393) و (16394) من طريقين عن زيد بن أسلم، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16393، 16394) نے زید بن اسلم کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 29 / (17890) من طريق ابن إسحاق، عن عمران بن أبي أنس، عن
حنظلة بن علي الأسلمي، عن رجل من بني الدِّيل قال: صلَّيتُ الظهر في بيتي … إلخ، وإسناده حسن.
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (17890 /29) نے ابن اسحاق عن عمران بن ابی انس عن حنظلہ بن علی الاسلمی عن رجل من بنی الدیل کی سند سے روایت کیا ہے کہ "میں نے اپنے گھر میں ظہر کی نماز پڑھی..."، درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
درجۂ حدیث: (1) حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ: بسر بن محجن سے اگرچہ صرف زید بن اسلم نے روایت کی ہے مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 26/ (16395)، والنسائي (932)، وابن حبان (2405) من طريق مالك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16395 /26)، نسائی (932) اور ابن حبان (2405) نے امام مالک کے طریق سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (16393) و (16394) من طريقين عن زيد بن أسلم، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16393، 16394) نے زید بن اسلم کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 29 / (17890) من طريق ابن إسحاق، عن عمران بن أبي أنس، عن
حنظلة بن علي الأسلمي، عن رجل من بني الدِّيل قال: صلَّيتُ الظهر في بيتي … إلخ، وإسناده حسن.
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (17890 /29) نے ابن اسحاق عن عمران بن ابی انس عن حنظلہ بن علی الاسلمی عن رجل من بنی الدیل کی سند سے روایت کیا ہے کہ "میں نے اپنے گھر میں ظہر کی نماز پڑھی..."، درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 809 سے ماخوذ ہے۔