المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
لَا يَكُونُ أَحَدٌ مُتَّقِيًا حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بَأْسٌ باب: کوئی شخص اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک وہ گناہ کے ڈر سے مباح (جائز) چیزوں کو بھی نہ چھوڑ دے
حدیث نمبر: 8097
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا أبو عَقِيل الثّقفي عبد الله بن عقَيل [عن عبد الله بن يزيد] (1) عن رَبيعة بن يزيد وعطيّة بن قيس، عن عطيّة بن سعد - وكان من أصحابِ رسول الله ﷺ أنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الرَّجل لا يكونُ من المتَّقِين حتى يدعَ ما لا بأس به حَذَرًا لِمَا به بأسٌ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7899 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عطیہ بن سعد رضی اللہ عنہ (جو اصحابِ رسول ﷺ میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص اس وقت تک پرہیزگاروں (متقیوں) میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ کسی ایسی چیز کو نہ چھوڑ دے جس میں بظاہر کوئی حرج نہ ہو، صرف اس ڈر سے کہ کہیں وہ کسی گناہ والی چیز میں مبتلا نہ ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين لم يرد في النسخ الخطية، وأثبتناه من المصادر التي خرَّجت الحديث.
وضاحت: بریکٹس کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھی، ہم نے اسے ان مصادر سے ثابت کیا ہے جنہوں نے حدیث کی تخریج کی ہے۔
وضاحت: بریکٹس کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھی، ہم نے اسے ان مصادر سے ثابت کیا ہے جنہوں نے حدیث کی تخریج کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8097 سے ماخوذ ہے۔