المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ . باب: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جس کی باگ ڈور کسی عورت کے ہاتھ میں ہو
حدیث نمبر: 7984
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، عن حُميد، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: عَصَمَني الله بشيء سمعتُه من النبيِّ ﷺ لمّا بَلَغَه أنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ تُوفِّي، فولَّوا أمرَهم امرأةً، فقال النبيُّ ﷺ: "لن يُفلِحَ قومٌ تَملِكُهم (1) امرأةٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7790 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو خبر ملی کہ شاہِ یمن (ذی یزن) وفات پا گیا ہے اور لوگوں نے ایک عورت کو اپنا حکمران بنا لیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس کی حکمرانی عورت کے پاس ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز): تملكتهم.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہاں لفظ "تملکتہم" (وہ ان کی ملکہ بنی) درج ہے۔
(2) إسناده صحيح، لكن قوله: ملك ذي يزن وهمٌ، فالذي تُوفِّي هو كسرى ملك فارس كما في الرواية السالفة برقم (4658) من طريق محمد بن خالد المثنى عن بن خالد بن الحارث، وسيأتي كذلك على الصواب برقم (8812) من طريق عوف بن أبي جميلة عن الحسن البصري، ومن هذه الطريق أخرجه البخاري كما يأتي. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: متن میں "شاہِ ذی یزن" کا تذکرہ وہم ہے، کیونکہ وفات پانے والا فارس کا بادشاہ کسرٰی تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (4658) اور (8812) میں صحیح طور پر مروی ہے اور اسی طریق سے امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی ذہنی لغزش (ذہول) ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہاں لفظ "تملکتہم" (وہ ان کی ملکہ بنی) درج ہے۔
(2) إسناده صحيح، لكن قوله: ملك ذي يزن وهمٌ، فالذي تُوفِّي هو كسرى ملك فارس كما في الرواية السالفة برقم (4658) من طريق محمد بن خالد المثنى عن بن خالد بن الحارث، وسيأتي كذلك على الصواب برقم (8812) من طريق عوف بن أبي جميلة عن الحسن البصري، ومن هذه الطريق أخرجه البخاري كما يأتي. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: متن میں "شاہِ ذی یزن" کا تذکرہ وہم ہے، کیونکہ وفات پانے والا فارس کا بادشاہ کسرٰی تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (4658) اور (8812) میں صحیح طور پر مروی ہے اور اسی طریق سے امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی ذہنی لغزش (ذہول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7984 سے ماخوذ ہے۔