حدیث نمبر: 7983
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا محمد بن عيسى بن الطَّبّاع، حدثنا بكَّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، قال: سمعتُ أبي يُحدِّث عن أبي بَكْرة: أنَّ النبيَّ ﷺ أتاه بَشيرٌ يُبشِّره بظَفَرِ خيلٍ له ورأسُه في حِجْر عائشةَ، فقام فخَرَّ لله تعالى ساجدًا، فلما انصرف أنشأَ يسألُ الرسولَ فحدَّثه، فكان (2) فيما حدَّثه [من] أمر العدوّ وكانت تَلِيهِم امرأةٌ، فقال النبيُّ ﷺ: "هَلَكَتِ الرجالُ حين أطاعتِ النِّساءَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7789 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا کہ ایک خوشخبری دینے والا آیا جس نے آپ ﷺ کے گھڑ سوار دستے کی فتح کی اطلاع دی، آپ ﷺ اٹھے اور اللہ عزوجل کے حضور سجدے میں گر گئے، پھر آپ ﷺ نے اس قاصد سے دشمن کے بارے میں تفصیلات پوچھیں تو اس نے بتایا کہ ان کی قیادت ایک عورت کر رہی ہے، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مرد ہلاک ہو گئے جنہوں نے عورتوں کی اطاعت (قیادت تسلیم) کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7983
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بكار بن عبد العزيز لين الحديث
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بكار بن عبد العزيز لين الحديث، وأصل الحديث صحيح بالسياق الآتي في الرواية التالية، وقد تفرَّد بكار بهذا اللفظ، وسلف الحديث مختصرًا بقصة سجود الشكر برقم (1038)» [ترقيم الرساله 7983] [ترقيم الشركة 7888] [ترقيم العلميه 7789]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: بكار، وجاء على الصواب في التلخيص للذهبي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف سے "بکار" لکھا گیا تھا، جبکہ امام ذہبی کی "التلخیص" میں یہ صحیح طور پر درج ہے۔
(3) إسناده ضعيف بكار بن عبد العزيز لين الحديث، وأصل الحديث صحيح بالسياق الآتي في الرواية التالية، وقد تفرَّد بكار بهذا اللفظ، وسلف الحديث مختصرًا بقصة سجود الشكر برقم (1038).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: بکار بن عبد العزیز "لیّن الحدیث" (کمزور) ہیں اور اس لفظ کے ساتھ وہ اکیلے ہیں، اگرچہ حدیث کی اصل اگلی روایت کے سیاق میں صحیح ثابت ہے۔
اہم نکتہ: سجدہ شکر کے قصے کے ساتھ یہ حدیث پہلے نمبر (1038) پر مختصر گزری ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (20455) عن أحمد بن عبد الملك الحراني، عن بكار بن عبد العزيز، بهذا الإسناد. وأخرج البزار في "مسنده" (3685) من طريق أبي المنهال البكراوي، عن عبد العزيز بن أبي بكرة، عن أبيه قال: لما مات كِسرى قال: "مَن وَلَّوا بعدَه؟ " قال: ابنته بوران، فقال رسول الله ﷺ: "لن يُفلح قوم أسندوا أمرهم إلى امرأة". قلنا أبو المنهال البكراوي: هو عبد الرحمن بن معاوية سماه الحاكم فيما سلف برقم (7933)، ولم نقف له على ترجمة وهذه الرواية من روايته عن أهل بيته، وهو مما يُحتمل.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 20455) نے اسی سند سے اور بزار نے اپنی مسند (3685) میں ابو المنهال البكراوی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: جب کسرٰی مرا تو آپ ﷺ نے پوچھا: "اس کے بعد انہوں نے کسے حاکم بنایا؟" کہا گیا: اس کی بیٹی بوران کو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے معاملات (حکومت) ایک عورت کے سپرد کر دیے"۔
فنی نکتہ / علّت: ابو المنہال البكراوی کا نام عبد الرحمن بن معاویہ ہے، ان کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) ہمیں نہیں مل سکے، البتہ ان کی اپنے گھر والوں سے یہ روایت قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7983 سے ماخوذ ہے۔