حدیث نمبر: 782
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع الحلبي، حدثنا معاوية بن سلَّام، عن زيد بن سلَّام، أنَّ أبا سلَّام حدَّثه قال: حدثني الحارث الأشعري، أنَّ النبي ﷺ حدَّثهم قال: "إنَّ الله ﵎ أمر يحيى بنَ زكريا بخمس كلمات يعملُ بهنَّ ويأمرُ بني إسرائيل أن يعملوا بهنَّ، فَوَعَظَ الناسَ ثم قال: إنَّ الله يأمرُكم بالصلاة (1)، فإذا نَصَبتُم وجوهَكم فلا تَلتِفتُوا، فإنَّ الله تعالى يَنصِبُ وجهَه لوجه عبدِه حين يُصلي له، فلا يَصرِفُ عنه وجهَه حتى يكونَ العبدُ هو الذي ينصرفُ" (2). وقد احتجَّ الشيخانِ برُوَاة هذا الحديث عن آخرهم (3)، ولم نَجِدْ للحارث الأشعري راويًا غيرَ ممطورٍ أبي سلَّام فتَرَكاه (4)، وقد تكلَّمتُ على هذا النحو في غير موضعٍ فأَغنى عن إعادته، والحديث على شرط الأئمة صحيحٌ محفوظ.
حافظ طلحہ بابر

حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تمہیں نماز کا حکم دیتا ہے، پس جب تم نماز پڑھو تو اپنے رخ سیدھے رکھو اور ادھر ادھر نہ دیکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنا رخ اپنے بندے کے رخ کے سامنے رکھتا ہے جب وہ اس کے لیے نماز پڑھتا ہے، اور وہ اس سے اپنا رخ تب تک نہیں ہٹاتا جب تک بندہ خود نہ پھر جائے۔"
امام حاکم فرماتے ہیں کہ شیخین نے اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا، یہ حدیث ائمہ کی شرائط کے مطابق صحیح اور محفوظ ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 782
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو قطعة من حديث طويل سلف تخريجه عند المصنف برقم (411)» [ترقيم الرساله 782] [ترقيم الشركة 869]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) من قوله: "ويأمر بني إسرائيل" إلى هنا سقط من المطبوع.
نوٹ / توضیح: عبارت "ويأمر بني إسرائيل" سے لے کر یہاں تک کا حصہ مطبوعہ نسخے سے ساقط (غائب) ہے۔
(2) إسناده صحيح، وهو قطعة من حديث طويل سلف تخريجه عند المصنف برقم (411).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہ ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے جس کی تخریج مصنف کے ہاں پہلے نمبر (411) پر گزر چکی ہے۔
(3) زيد بن سلام وجدُّه أبو سلّام احتجَّ بهما مسلم دون البخاري.
اہم نکتہ: زید بن سلام اور ان کے دادا ابو سلام سے امام مسلم نے تو احتجاج (استدلال) کیا ہے لیکن امام بخاری نے نہیں۔
(4) انظر تعليقنا على هذه المسألة فيما سلف عند الحديث (97).
حوالہ / مصدر: اس مسئلے پر ہماری سابقہ گفتگو حدیث نمبر (97) کے ذیل میں ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 782 سے ماخوذ ہے۔