المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ . باب: جن بہترین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو وہ ناک میں دوا ڈالنا اور منہ کے ایک طرف سے دوا پلانا ہے
حدیث نمبر: 7664
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا شعيب بن الليث [عن أبيه] (3) عن أبي الزُّبير، عن جابر: [أنَّ أُمَّ سلمة] (4) استأذنَتْ رسول الله ﷺ في الحِجامة، فأمر النبيُّ ﷺ أبا طَيْبةَ أن يَحجُمَها، قال: حسبتُ أنه قال: وكان أخوها من الرَّضَاعة، أو غلامًا له لم يَحتلِمْ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7474 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے حجامہ کروانے کی اجازت مانگی، تو نبی کریم ﷺ نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں سینگی لگائیں، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ (ابو طیبہ) ان کے رضاعی بھائی تھے یا ایک ایسے لڑکے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) ما بين المعقوفين لم يرد في النسخ الخطية، وأثبتناه من "إتحاف المهرة" (3589) ومن مصادر التخريج.
اہم نکتہ: بریکٹ والی عبارت قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھی، اسے "اتحاف المہرہ" (3589) سے ثابت کیا گیا ہے۔
(4) في (ز): أنَّ رسول الله، وفي (ص) و (م) مكانها بياض، وأثبتناه على الصواب من "إتحاف المهرة" ومن مصادر التخريج.
اہم نکتہ: نسخہ (ز) میں "أنَّ رسول الله" ہے، جبکہ (ص) اور (م) میں وہاں بياض (خالی جگہ) تھی، ہم نے اسے "اتحاف المہرہ" اور دیگر مصادر سے درست کر کے لکھا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14775)، ومسلم (2206)، وأبو داود (4105)، وابن ماجه (3480)، وابن حبان (5602) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14775)، مسلم (2206)، ابو داود (4105)، ابن ماجہ (3480) اور ابن حبان (5602) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔
اہم نکتہ: بریکٹ والی عبارت قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھی، اسے "اتحاف المہرہ" (3589) سے ثابت کیا گیا ہے۔
(4) في (ز): أنَّ رسول الله، وفي (ص) و (م) مكانها بياض، وأثبتناه على الصواب من "إتحاف المهرة" ومن مصادر التخريج.
اہم نکتہ: نسخہ (ز) میں "أنَّ رسول الله" ہے، جبکہ (ص) اور (م) میں وہاں بياض (خالی جگہ) تھی، ہم نے اسے "اتحاف المہرہ" اور دیگر مصادر سے درست کر کے لکھا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14775)، ومسلم (2206)، وأبو داود (4105)، وابن ماجه (3480)، وابن حبان (5602) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14775)، مسلم (2206)، ابو داود (4105)، ابن ماجہ (3480) اور ابن حبان (5602) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7664 سے ماخوذ ہے۔