المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ كَانَ لَهُ شِفَاءٌ . باب: جس نے سترہ تاریخ کو حجامہ کروایا، اس کے لیے اس میں شفا ہے
حدیث نمبر: 7665
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو تَوْبة الربيع بن نافع، حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجُمَحي، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "من احتَجَم لسبعَ عشرةَ من الشهر، كان له شِفاءً من كل داءٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7475 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مہینے کی سترہ تاریخ کو حجامہ کروائے، اس کے لیے یہ ہر بیماری سے شفا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف من أجل سعيد بن عبد الرحمن الجمحي، وضعفه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 17/ 449 مع جملة أحاديث في التوقيت. لكن قد صحَّ من فعله ﷺ كما سيأتي قريبًا من حديث أنس.
درجۂ حدیث: اس کی سند سعید بن عبد الرحمن الجمحی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" 17/ 449 میں اوقاتِ حجامہ کے متعلق دیگر احادیث کے ساتھ اسے بھی ضعیف کہا ہے۔ البتہ نبی ﷺ کے فعل سے یہ بات ثابت ہے جیسا کہ آگے حضرت انس کی حدیث میں آئے گا۔
وقال العقيلي في "الضعفاء" 1/ 338: وليس في الاختيار في الحجامة والكراهية شيء يثبت.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام عقیلی "الضعفاء" 1/ 338 میں فرماتے ہیں کہ حجامہ کے لیے (خاص دنوں کے) انتخاب یا کراہت کے بارے میں کوئی چیز (حدیث) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أبو داود (3861) عن أبي توبة الربيع بن نافع بهذا الإسناد. وزاد فيه وتسع عشرة وإحدى وعشرين.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود نے (3861) میں ابو توبہ الربیع بن نافع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور اس میں "انیسویں اور اکیسویں" تاریخ کا اضافہ کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند سعید بن عبد الرحمن الجمحی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" 17/ 449 میں اوقاتِ حجامہ کے متعلق دیگر احادیث کے ساتھ اسے بھی ضعیف کہا ہے۔ البتہ نبی ﷺ کے فعل سے یہ بات ثابت ہے جیسا کہ آگے حضرت انس کی حدیث میں آئے گا۔
وقال العقيلي في "الضعفاء" 1/ 338: وليس في الاختيار في الحجامة والكراهية شيء يثبت.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام عقیلی "الضعفاء" 1/ 338 میں فرماتے ہیں کہ حجامہ کے لیے (خاص دنوں کے) انتخاب یا کراہت کے بارے میں کوئی چیز (حدیث) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أبو داود (3861) عن أبي توبة الربيع بن نافع بهذا الإسناد. وزاد فيه وتسع عشرة وإحدى وعشرين.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود نے (3861) میں ابو توبہ الربیع بن نافع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور اس میں "انیسویں اور اکیسویں" تاریخ کا اضافہ کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7665 سے ماخوذ ہے۔