حدیث نمبر: 7619
حدثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهمذان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخزَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان، حدثنا صالح بن [أبيٍ] (2) الأخضر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن حَكيم بن حِزام، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أرأيتَ أدويةً نتداوى بها، ورُقًى نَسترقي بها، أتردُّ من قَدَر الله؟ قال: "إنها من قَدَرِ الله" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن يزيد وعمرو بن الحارث بإسناد آخر، وهو المحفوظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7431 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان دواؤں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جن سے ہم علاج کرتے ہیں، اور ان دموں (رقیہ) کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرواتے ہیں، کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو ٹال سکتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ (خود) اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ اسے یونس بن یزید اور عمرو بن حارث نے دوسری سند سے روایت کیا ہے اور وہی (نسخہ) محفوظ ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7619
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي الأخضر» [ترقيم الرساله 7619] [ترقيم الشركة 7527] [ترقيم العلميه 7431]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) انظر التعليق على الحديث السالف برقم (7502).
نوٹ: پچھلی حدیث نمبر (7502) پر تعلیق ملاحظہ کریں۔
(2) سقطت من النسخ الخطية.
نوٹ / توضیح: یہ (الفاظ/عبارت) قلمی نسخوں سے ساقط ہو گئے ہیں۔
(3) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي الأخضر. وقد سلف من هذا الطريق برقم (88).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند صالح بن ابی الاخضر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہ روایت اسی طریق سے پہلے نمبر (88) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7619 سے ماخوذ ہے۔