المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ خُلُقٌ حَسَنٌ باب: مسلمان بندے کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا علي بن محمد الطَّنَافسي، حدثنا مِسعَر، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي (2)، حدثنا إسحاق وعثمان بن أبي شَيْبة، قالا: حدثنا جَرير، عن الأعمش، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا عبد الله بن عمر الجَوهَري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا إبراهيم بن الحجَّاج، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا الأعمش، عن زياد ابن عِلاقة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو خَيثمة زهير بن معاوية الجُعفي، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنِّي بمَرُو، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثني إسحاق بن الحسن، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، أخبرنا إسرائيل، حدثنا زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن بشر أخو خطّاب، حدثنا محمد بن الصَّبَّاح، حدثنا أسباط بن نصر، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهرا إن الأصبهاني، حدثنا عبيد الله ابن موسى، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا المطَّلِب بن زياد، حدثنا زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أحمد بن عثمان الأَدَمي ببغداد، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المسعودي، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا أبي العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عيسى المَدَائني، حدثنا سلَّام بن سليمان، حدثنا وَرْقاء بن عمر، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العدل وأبو بكر الشافعي، قالوا -واللفظ لهم-: حدثنا بشر بن موسى حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثني زياد بن عِلاقة، قال: سمعتُ أُسامة بن شَرِيك العامريَّ يقول: شهدتُ الأعاريبَ يسألون رسولَ الله ﷺ: هل علينا حَرَجٌ في كذا وفي كذا؟ فقال: "عبادَ الله، وَضَعَ الله الحَرَجَ إلَّا مَن اقترض من عِرْض أخيه شيئًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَكَ" قالوا: يا رسولَ الله، نَتَداوى؟ قال: "تَداوَوْا عبادَ الله، فإنَّ الله تعالى لم يُنزِلْ دَاءً إِلَّا وقد أنزلَ له شِفاءً إِلَّا هذا الهَرَمَ" قالوا: يا رسولَ الله، ما خيرُ ما أُعطيَ العبدُ المسلم؟ قال: "خُلُقُ حَسَنٌ (1). هذه أسانيد صحيحة، كلُّها على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والعلة عندهم فيه أنَّ أُسامة بن شريك ليس له راو غير زياد بن عِلاقة (2)، وقد ثَبَتَ في أول هذا الكتاب بالحُجَج والبراهين والشواهد عنهما، أنَّ هذا ليس بعلّة، وقد بقي من طرق هذا الحديث عن زياد بن عِلاقة أكثرُ مما ذكرتُه، إذ لم تكن الروايةُ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7430 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا اسامہ بن شریک عامری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیہاتیوں کو دیکھا وہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر رہے تھے: کیا ہم پر فلاں اور فلاں کام میں کوئی حرج (گناہ) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج کو اٹھا لیا ہے، سوائے اس شخص کے جس نے اپنے بھائی کی آبرو (عزت) سے کچھ لیا ہو (یعنی غیبت یا توہین کی ہو)، پس یہی وہ شخص ہے جو گناہ میں مبتلا ہوا اور ہلاک ہو گیا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج معالجہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! علاج کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کی شفا بھی پیدا نہ فرمائی ہو سوائے «الهَرَمَ» ”بڑھاپے“ کے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بندہ مسلم کو عطا کی جانے والی سب سے بہترین چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمدہ اخلاق۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ تمام اسانید صحیح ہیں اور شیخین کی شرائط پر پوری اترتی ہیں مگر انہوں نے اسے اپنی کتب میں جگہ نہیں دی، ان کے نزدیک اس میں علت یہ سمجھی گئی کہ اسامہ بن شریک سے صرف زیاد بن علاقہ نے روایت کی ہے، حالانکہ ہم اس کتاب کے شروع میں دلائل اور شواہد سے ثابت کر چکے ہیں کہ یہ کوئی علت نہیں ہے، اور زیاد بن علاقہ سے اس حدیث کے اتنے طرق مروی ہیں جو میرے ذکر کردہ طرق سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ نام تحریف ہو کر "الحرفی" اور (ص) میں "الحرمی" ہو گیا ہے، اور جو ثابت کیا گیا ہے وہ نسخہ (م) سے ہے۔
(1) أسانيده صحيحة بالجملة. وسلف تخريجه برقم (421).
درجۂ حدیث: اس کی تمام اسانید مجموعی طور پر صحیح ہیں۔ اس کی تخریج پہلے نمبر (421) پر گزر چکی ہے۔
(2) انظر تعليقنا بإثر الحديث السالف برقم (97).
نوٹ: پچھلی حدیث نمبر (97) کے فوراً بعد ہماری تعلیق ملاحظہ کریں۔