المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
كَلَامُ النَّبَاتِ مَعَ سُلَيْمَانَ لِأَيِّ شَيْءٍ طَلَعْتِ باب: سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ساتھ پودوں کا کلام کہ وہ کس مقصد کے لیے اگے ہیں
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2)، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عبد الجبَّار بن العباس الشِّبَامي (3)، عن سَلَمة بن كُهيل، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: كان سليمانُ بن داود إذا صلَّى الصلاة طَلَعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فيقول لها ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ فتقول: أنا شجرةُ كذا وكذا، طلعتُ لداءِ كذا وكذا، فلما صلَّى ذاتَ يوم الغداةَ، طلعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فقال لها: ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ قالت أنا الخُرْنوب، طلعتُ لِخَراب هذا المسجد، فعَلِمَ سليمانُ أنَّ أجلَه قد اقترب، وأنَّ بيت المَقدِس لا يَحْرَبُ وهو حيٌّ، فدعا الله تعالى أن يُعمِّي على الشيطان موتَه، وكانت الجنُّ تزعُمُ أَنَّ الشياطين يعلمون الغيبَ، فمات على عصاه، فسَلَّط الأَرضَةَ على عصاه فأكلَتْها فسقط، فحَقَّ على الشياطين أن تأتيَ الأَرضَةَ بالماء حيث كانت تُثْني عليها شُكرًا بما صنعَتْ بعصا سليمان (1).
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سلیمان بن داود علیہما السلام جب نماز ادا کرتے تو ان کے سامنے ایک درخت نمودار ہو جاتا، وہ اس سے دریافت فرماتے: ”تم کیا ہو اور کس مقصد کے لیے اگی ہو؟“ وہ جواب دیتا: ”میں فلاں درخت ہوں اور فلاں بیماری کے علاج کے لیے اگی ہوں“، پھر ایک روز جب انہوں نے صبح کی نماز ادا کی تو ان کے سامنے ایک درخت نمودار ہوا، انہوں نے اس سے دریافت فرمایا: ”تم کیا ہو اور کس غرض سے اگی ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں «الخُرْنوب» (خرنوب) ہوں اور اس مسجد کی ویرانی کے لیے اگی ہوں“، تب سیدنا سلیمان علیہ السلام جان گئے کہ ان کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے اور بیت المقدس ان کی زندگی میں ویران نہیں ہو گا، چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کی موت کا حال شیاطین پر پوشیدہ رہے، جب کہ جنات کا یہ گمان تھا کہ شیاطین غیب کا علم رکھتے ہیں، پھر آپ علیہ السلام اپنے عصا کے سہارے وفات پا گئے، پس اللہ تعالیٰ نے «الأَرضَة» (دیمک) کو ان کے عصا پر مسلط کر دیا جس نے اسے کھا لیا اور آپ (کا جسدِ مبارک) زمین پر آ رہا، اس پر شیاطین نے دیمک کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یہ لازم کر لیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اسے پانی پہنچائیں کیونکہ اس نے سلیمان علیہ السلام کے عصا کو کھا کر (ان کی موت ظاہر کرنے کا) جو کام کیا تھا وہ اس پر اس کی تعریف اور شکریہ ادا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ نام تحریف ہو کر "صنعانی" ہو گیا ہے۔
(3) تحرّف في النسخ إلى: الشيباني.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شیبانی" ہو گیا ہے۔
(1) إسناده حسن. أبو الجواب: هو الأحوص بن جواب الضبي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
تعینِ راوی: ابوالجواب سے مراد احوص بن جواب ضبی ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر 22/ 296 من طريق الحسين بن الحسن، عن أبي الجواب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (22/ 296) نے حسین بن حسن کے طریق سے، عن ابی الجواب اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔