المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِكُلِّ أَذَانٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً باب: جو شخص بارہ سال اذان دیتا رہا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور ہر اذان پر اس کے لیے ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت پر تیس نیکیاں لکھی گئیں۔
حدیث نمبر: 750
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، حدثنا مُحرِز بن سَلَمة العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع: أن ابن عمر كان لا يؤذِّن في السفر ولا يقيمُ في شيءٍ من صلواتهِ (2).
حافظ طلحہ بابر
نافع سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اپنی کسی بھی نماز کے لیے نہ اذان دیتے تھے اور نہ اقامت کہتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) شاذٌّ بهذا اللفظ، والمحفوظ عن ابن عمر كما سبق: أنه كان يقيم لكل صلواته في السفر ولا يؤذِّن إلّا في الصبح، وفي رواية عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن عبيد الله بن عمر مناكير.
فنی نکتہ / علّت: ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت 'شاذ' (غیر محفوظ) ہے۔ جیسا کہ پہلے گزرا، حضرت ابن عمر سے محفوظ بات یہ ہے کہ وہ سفر میں ہر نماز کے لیے صرف اقامت کہتے تھے اور اذان صرف صبح کی نماز کے لیے دیتے تھے۔
نوٹ / توضیح: الدراوردی کی عبید اللہ بن عمر سے روایات میں منکر باتیں پائی جاتی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت 'شاذ' (غیر محفوظ) ہے۔ جیسا کہ پہلے گزرا، حضرت ابن عمر سے محفوظ بات یہ ہے کہ وہ سفر میں ہر نماز کے لیے صرف اقامت کہتے تھے اور اذان صرف صبح کی نماز کے لیے دیتے تھے۔
نوٹ / توضیح: الدراوردی کی عبید اللہ بن عمر سے روایات میں منکر باتیں پائی جاتی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 750 سے ماخوذ ہے۔