المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِكُلِّ أَذَانٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً باب: جو شخص بارہ سال اذان دیتا رہا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور ہر اذان پر اس کے لیے ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت پر تیس نیکیاں لکھی گئیں۔
حدیث نمبر: 751
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عفَّان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن عمرو بن حفص، حدثنا عبد الواحد بن غِيَاث؛ قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة؛ قال حماد: وحدثنا عمَّار بن أبي عمَّار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا سَمِعَ أحدُكم النِّداء والإناءُ على يدِه، فلا يَضَعْه حتى يقضيَ حاجتَه منه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (سحری کی) اذان سنے اور (پانی یا کھانے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو، تو اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح. وهو مكرر (740).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ نمبر (740) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ نمبر (740) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 751 سے ماخوذ ہے۔