حدیث نمبر: 7492
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمدان الجلَّاب بهَمَذان، حدّثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدّثنا عمرو بن عثمان الرَّقيّ، حدّثنا موسى بن أَعيَن، عن الأعمش، عن أبي يحيى مولى جَعْدة بن (1) هُبيرة، عن أبي هريرة، قال: قيل للنبي ﷺ: إِنَّ فلانةَ تصومُ النهار، وتقومُ الليل، وتُؤذي جيرانَها بلسانها، فقال: "لا خيرَ فيها، هي في النار"، قيل: فإنَّ فلانةَ تُصلِّي المكتوبة، وتصومُ رمضان، وتتصدَّقُ بأثوارٍ من أَقِطٍ، ولا تُؤذي أحدًا بلسانها، قال: "هي في الجنَّة" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا: ”فلاں عورت دن کو روزہ رکھتی ہے اور رات کو قیام (عبادت) کرتی ہے مگر اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو اذیت دیتی ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی خیر نہیں، وہ آگ میں ہے“، پھر عرض کیا گیا: ”فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہے، رمضان کے روزے رکھتی ہے اور پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنی زبان سے کسی کو تکلیف نہیں دیتی“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے“۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7492
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، عمرو بن عثمان الرَّقي» [ترقيم الرساله 7492] [ترقيم الشركة 7401]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) إلى: بنت.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بنت" بن گیا ہے۔
(2) حديث حسن، عمرو بن عثمان الرَّقي - وإن كان ضعيفًا - متابع. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو بن عثمان الرقی - اگرچہ ضعیف ہیں - لیکن وہ "متابع" ہیں (یعنی ان کی روایت تائید میں ہے)۔ پچھلی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7492 سے ماخوذ ہے۔