حدیث نمبر: 7422
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا سعيد بن أبي، مريم، أخبرنا الدَّراوَرْدي، حدثني داود بن صالح، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ أبا بكر الصديق وعمر بن الخطَّاب وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ، جلسوا بعدَ وفاة رسولِ الله ﷺ، فذكروا أعظم الكبائر، فلم يكن عندَهم فيها علم يَنْتهون إليه، فأرسلوني إلى عبد الله بن عمرو أسألُه عن ذلك، فأخبرني أنَّ أعظمَ الكبائر شربُ الخمرِ، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فأنكروا ذلك ووَثَبُوا إليه جميعًا حتى أتَوه في دارِه، فأخبَرهم أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ مَلِكًا من ملوك بني إسرائيل أخذَ رجلًا، فخيَّره بين أن يَشربَ الخمر أو يقتلَ نفسًا أو يزنيَ أو يأكلَ لحمَ الخنزير، أو يقتلوه إنْ أَبى، فاختار أن يَشربَ الخمرَ، وإنه لما شَرِبَه لم يمتنِعْ من شيء أرادُوه منه"، وأنَّ رسولَ الله ﷺ قال لنا مُجيبًا: "ما من أحدٍ يشربُها فيَقبلُ الله له صلاةَ أربعين ليلةً، ولا يموت وفي مَثانتِه منه شيء إلَّا حُرِّمَت عليه بها في الجنة، فإن ماتَ في أربعينَ ليلةً، مات مِيتةً جاهليةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب اور چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں بیٹھے اور سب سے بڑے گناہوں کا تذکرہ کرنے لگے، لیکن ان کے پاس اس بارے میں کوئی ایسی حتمی علمی معلومات نہ تھیں جس پر وہ اتفاق کر لیتے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس اس بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے، میں نے واپس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے اس بات کا انکار کیا اور سب مل کر ان کے گھر کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ تب انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے ایک شخص کو گرفتار کیا اور اسے اختیار دیا کہ وہ یا تو شراب پی لے، یا کسی کو قتل کر دے، یا زنا کرے، یا خنزیر کا گوشت کھائے، ورنہ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔ اس شخص نے شراب پینے کا انتخاب کیا، لیکن جب اس نے شراب پی لی تو پھر اس نے کسی بھی ایسے کام سے انکار نہ کیا جس کا ان لوگوں نے اس سے مطالبہ کیا تھا (یعنی وہ تمام گناہوں کا مرتکب ہو گیا)“؛ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جواباً ارشاد فرمایا: ”جو کوئی اسے پیتا ہے اللہ تعالیٰ چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں فرماتا، اور وہ اس حال میں نہیں مرتا کہ اس کے مثانے میں اس شراب کا کوئی حصہ موجود ہو مگر یہ کہ اس کی وجہ سے اس پر جنت حرام کر دی جائے گی، اور اگر وہ ان چالیس راتوں کے اندر مر گیا تو جاہلیت کی موت مرے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأشربة / حدیث: 7422
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن إن شاء الله
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله، من أجل داود بن صالح: وهو ابن دينار التمار، وقد جاء في رواية سعيد بن أبي مريم هذه قصة الملك الإسرائيلي مرفوعة، وخالفه يعقوب بن حميد بن كاسب عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (810) فرواها عن الدراوردي موقوفة، والقلب إلى هذا أميَل، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 7422] [ترقيم الشركة 7332] [ترقيم العلميه 7236]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل داود بن صالح: وهو ابن دينار التمار، وقد جاء في رواية سعيد بن أبي مريم هذه قصة الملك الإسرائيلي مرفوعة، وخالفه يعقوب بن حميد بن كاسب عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (810) فرواها عن الدراوردي موقوفة، والقلب إلى هذا أميَل، والله أعلم.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ، یہ سند داؤد بن صالح (ابن دینار التمار) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سعید بن ابی مریم کی اس روایت میں اسرائیلی بادشاہ کا قصہ "مرفوعاً" (نبی ﷺ کے قول کے طور پر) ذکر ہوا ہے، جبکہ یعقوب بن حمید بن کاسب نے ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثانی" (810) میں ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے الدراوردی سے "موقوفاً" (صحابی یا تابعی کے قول کے طور پر) روایت کیا ہے؛ اور دل اسی (موقوف) ہونے کی طرف زیادہ مائل ہے، واللہ اعلم۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (363) عن أحمد بن رشدين، عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الاوسط" (363) میں احمد بن رشدین کے طریق سے، انہوں نے سعید بن ابی مریم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر الحديث السالف برقم (7418).
اہم نکتہ: سابقہ حدیث نمبر (7418) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7422 سے ماخوذ ہے۔