المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ فَضْلِ الْمُهَاجِرِينَ باب: مہاجرین کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7141
أخبرني أبو محمد بن زياد العَدْل، حدَّثنا محمد بن إسحاق، حدَّثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب، حدثني عمِّي، أخبرني سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "للمهاجرينَ مَنابرُ من ذَهَبٍ يَجلِسُون عليها يومَ القيامة، قد أمنوا من الفَزَع". قال: ثم يقول أبو سعيد: والله لو حَبَوتُ بها أحدًا لحَبَوتُ بها قومي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ فضائِل أهل بدر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6965 - أحمد بن عبد الرحمن واهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین کے لیے (قیامت کے دن) سونے کے منبر ہوں گے جن پر وہ بیٹھے ہوں گے اور وہ اس دن کی بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔“ پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اللہ کی قسم! اگر یہ فضیلت میں کسی کو دے سکتا تو اپنی قوم (انصار) کو دیتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اہل بدر کے فضائل کا تذکرہ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف من أجل كثير بن زيد - وهو الأسلمي - فقد تفرَّد به، وهو ممن لا يحتمل تفرده، فالأكثر على تضعيفه، كما أنه إنما يروي عن عبد الرحمن بن أبي سعيد بواسطة ابنه رُبيح بن عبد الرحمن، ولا نعرف له رواية عن والد ربيح إلا في هذا الخبر. وأحمد بن عبد الرحمن قال أبو حاتم الرازي: خلط ثم رجع، وكان صدوقًا، وبنحوه قال أبو زرعة، وأعله الذهبي في "التلخيص" بأحمد هذا، فقال: أحمد واهٍ. قلنا: لكنه متابع. وعمه: هو عبد الله بن وهب المصري، وأبو محمد بن زياد: هو عبد الله بن محمد بن علي بن زياد.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ کثیر بن زید الاسلمی کا تفرد ہے، اور وہ ایسے راوی نہیں جن کا تفرد قبول کیا جائے (اکثر نے انہیں ضعیف کہا ہے)۔ نیز احمد بن عبد الرحمن پر بھی کلام ہے؛ ابو حاتم نے کہا انہوں نے اختلاط کیا تھا مگر پھر رجوع کر لیا، وہ صدوق تھے۔ امام ذہبی نے انہیں "واہی" (انتہائی کمزور) کہا ہے، مگر ہم کہتے ہیں کہ ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (340)، والبزار (1269 - كشف الأستار)، وتمام في "الفوائد" (1607) من طريق سفيان بن حمزة، وابن حبان (7262)، والآجري في "الشريعة" (1117) من طريق عبد العزيز بن أبي حازم، كلاهما عن كثير بن زيد، بهذا الإسناد. وقال البزار: لا نعلمه بهذا اللفظ إلا بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (340)، امام بزار نے (1269 - کشف الاستار)، اور تمام نے "الفوائد" (1607) میں سفیان بن حمزہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز امام ابن حبان (7262) اور آجری نے "الشریعہ" (1117) میں اسے عبدالعزیز بن ابی حازم کے طریق سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں کثیر بن زید سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
اہم نکتہ: امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت صرف اسی سند سے مروی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ کثیر بن زید الاسلمی کا تفرد ہے، اور وہ ایسے راوی نہیں جن کا تفرد قبول کیا جائے (اکثر نے انہیں ضعیف کہا ہے)۔ نیز احمد بن عبد الرحمن پر بھی کلام ہے؛ ابو حاتم نے کہا انہوں نے اختلاط کیا تھا مگر پھر رجوع کر لیا، وہ صدوق تھے۔ امام ذہبی نے انہیں "واہی" (انتہائی کمزور) کہا ہے، مگر ہم کہتے ہیں کہ ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (340)، والبزار (1269 - كشف الأستار)، وتمام في "الفوائد" (1607) من طريق سفيان بن حمزة، وابن حبان (7262)، والآجري في "الشريعة" (1117) من طريق عبد العزيز بن أبي حازم، كلاهما عن كثير بن زيد، بهذا الإسناد. وقال البزار: لا نعلمه بهذا اللفظ إلا بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (340)، امام بزار نے (1269 - کشف الاستار)، اور تمام نے "الفوائد" (1607) میں سفیان بن حمزہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز امام ابن حبان (7262) اور آجری نے "الشریعہ" (1117) میں اسے عبدالعزیز بن ابی حازم کے طریق سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں کثیر بن زید سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
اہم نکتہ: امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت صرف اسی سند سے مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7141 سے ماخوذ ہے۔