حدیث نمبر: 7142
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن سِنان القزَّاز، حدَّثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدَّثنا عكرمة بن عمار، حدَّثنا أبو زُمَيل قال: قال ابن عباس: قال عمر بن الخطاب: كتَبَ حاطبُ بن أبي بَلْتعةَ إلى أهل مكةَ، فأطلعَ الله تعالى عليه نبيَّه ﷺ، فبعثَ عليًّا والزبيرَ في أثرٍ الكتاب، فأدركا امرأةً على بعير، فاستخرجاه (1) من قَرْنٍ من قُرونها، فأتَيا به نبيَّ الله ﷺ فقُرِئَ عليه، فأرسلَ إلى حاطب، فقال: "يا حاطبُ، إِنَّكَ (2) كتبتَ هذا الكتابَ؟ قال: نعم يا رسولَ الله، قال: "فما حملَكَ على ذلك؟ " قال: يا رسولَ الله، إني والله لناصحٌ لله ولرسوله ﷺ ولكنِّي كنتُ غَريبًا في أهل مكةَ، وكان أهلي بين ظَهرانَيْهم، فخشيتُ عليهم، فكتبتُ كتابًا لا يضرُّ الله ورسوله شيئًا، وعسى أن يكون فيه منفعةٌ لأهلي، قال عمر: فاختَرطتُ سيفي فقلت: يا رسولَ الله، أمكِنِّي منه، فإنه قد كفَرَ، فأضربَ عُنقَه، فقال رسول الله ﷺ: "يا ابنَ الخطاب، وما يُدريك لعلَّ الله قد اطَّلعَ على أهلِ هذه العصابة من أهلِ بدرٍ، فقال: اعملُوا ما شئتُم، فإنِّي قد غفرتُ لكم؟! " (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عبيد الله بن أبي رافع عن عليٍّ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزُّبيرَ إلى رَوضةِ خَاخٍ، بغير هذا اللفظ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6966 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کی طرف ایک (خفیہ) خط لکھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا، چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو اس خط کے پیچھے روانہ فرمایا، ان دونوں نے ایک اونٹ سوار خاتون کو جا لیا اور اس کے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکال لیا، پھر وہ اسے لے کر اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنایا گیا، آپ ﷺ نے حاطب کو بلا بھیجا اور دریافت فرمایا: ”اے حاطب! کیا تم نے یہ خط لکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں اس پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خیر خواہ ہوں لیکن میں اہل مکہ میں ایک پردیسی تھا اور میرا اہل و عیال ان کے درمیان مقیم تھا، پس مجھے ان کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا تو میں نے ایک ایسا خط لکھ دیا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا، اور امید تھی کہ اس سے میرے اہل و عیال کو کوئی فائدہ پہنچ جائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سونت لی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں کیونکہ اس نے کفر کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کیا معلوم کہ شاید اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اس گروہ پر مطلع، آگاہ ہونے کی بناء پر ہی ان سے فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے؟!“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان کا اتفاق صرف عبید اللہ بن ابی رافع کی سیدنا علی سے مروی اس حدیث پر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر کو ”روضہ خاخ“ کی طرف بھیجا، مگر اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7142
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزار، وقد توبع. أبو زميل: هو سماك بن الوليد الحنفي.» [ترقيم الرساله 7142] [ترقيم الشركة 7061] [ترقيم العلميه 6966]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في نسخنا الخطية: فاستخرجا، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں "فاستخرجا" (تثنیہ کا صیغہ) لکھا ہے، جبکہ ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن میں تصحیح کی ہے جیسا کہ طبعہ میمان میں مذکور ہے۔
(2) في المصادر: أنت، وهو الأنسب.
نوٹ / توضیح: دیگر مصادر میں "أنت" (تم) کا لفظ ہے، اور یہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزار، وقد توبع. أبو زميل: هو سماك بن الوليد الحنفي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے (یعنی دیگر شواہد کی بنا پر صحیح ہے)۔
فنی نکتہ / علّت: متابعات اور شواہد کی روشنی میں یہ سند "حسن" ہے، جس کی وجہ اس میں موجود راوی محمد بن سنان القزار ہیں جن کی متابعت بھی موجود ہے۔
اہم نکتہ: سند میں مذکور "ابو زمیل" سے مراد سماک بن ولید الحنفی ہیں۔
وأخرجه البزار (197)، وأبو يعلى كما في "المطالب العالية" لابن حجر (3756/ 1) ومن طريقه الضياء المقدسي في "المختارة" 1/ (174) - والطحاوي في "شرح المشكل" (4436) من طرق عن عمر بن يونس اليمامي، بهذا الإسناد. ورواية الضياء سقط منها ذكر عمر.
حوالہ / مصدر: اسے امام بزار (197)، اور ابو یعلیٰ نے (جیسا کہ مطالب عالیہ 3756/1 میں ہے) روایت کیا ہے۔ ضیاء مقدسی نے "المختارہ" 1/ (174) میں اور طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (4436) میں عمر بن یونس الیمامی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ضیاء مقدسی کی ایک روایت میں "عمر" (بن خطاب رضی اللہ عنہ) کا ذکر ساقط ہو گیا ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا يعقوب بن شيبة في "مسند عمر" ص 54 - 55، والطبراني في "الأوسط" (2647)، والقطيعي في "جزء الألف دينار" (255)، والضياء المقدسي 1/ (175 - 177) من طريق أبي حذيفة موسى بن مسعود، عن عكرمة بن عمار، به.
حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصراً یعقوب بن شیبہ نے "مسند عمر" ص 54-55 میں، طبرانی نے "الاوسط" (2647)، قطیعی نے "جزء الالف دینار" (255) اور ضیاء مقدسی 1/ (175-177) میں ابو حذیفہ موسیٰ بن مسعود از عکرمہ بن عمار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عن ابن عبّاس في آخر حديث طويل برقم (4702).
نوٹ / توضیح: یہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث کے آخر میں پہلے نمبر (4702) پر گزر چکی ہے۔
وسلف أيضًا عن عبد الرحمن بن حاطب بن أبي بلتعة برقم (5393)، وذكرنا شواهده هناك.
نوٹ / توضیح: یہ روایت عبد الرحمن بن حاطب بن ابی بلتعه کے واسطے سے بھی نمبر (5393) پر گزر چکی ہے، جہاں ہم نے اس کے شواہد کا تذکرہ کر دیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا من حديث أبي هريرة برقم (7144).
تفصیلِ روایت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ روایت مختصراً آگے نمبر (7144) پر آئے گی۔
(1) البخاري (3007) و (4274) و (4890)، ومسلم (2494)، بلفظ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزبير والمقداد بن الأسود، ولم يذكر المصنف المقداد بن الأسود.
حوالہ / مصدر: یہ روایت بخاری (3007، 4274، 4890) اور مسلم (2494) میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا"۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں مصنف نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔
ووقع في رواية أبي عبد الرحمن السلمي عن علي عند البخاري (3983) و (6259): بعثني رسول الله ﷺ وأبا مرثد الغنوي والزبير بن العوام، وكلنا فارس.
تفصیلِ روایت: ابو عبدالرحمن سلمی کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت میں (بخاری 3983، 6259) یہ الفاظ ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے، ابو مرثد غنوی اور زبیر بن عوام کو بھیجا، اور ہم سب شہسوار تھے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7142 سے ماخوذ ہے۔