المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَأَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - باب: سیدہ حبیبہ بنت ابی تجرأہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7120
أخبرني مَخْلد بن جعفر، حدَّثنا محمد بن جَرير، حدثني محمد بن عمر بن علي المُقدَّمي، حدَّثنا الخليل بن عثمان (2)، قال: سمعتُ عبد الله بن نُبَيهٍ يُحدِّث عن جدَّته صفيةَ بنت شَيْبة، عن حَبيبةَ بنت أبي تَجْراة قالت: كانت لنا صُفَّةٌ في الجاهلية، قالت: فاطَّلعتُ من كُوَّةٍ بين الصَّفا والمَروةِ، فأشرفتُ على رسول الله ﷺ، وإذا هو يَسعَى ويقولُ لأصحابه: "اسْعَوا، فإِنَّ الله تعالى كَتَبَ عليكم السَّعْيَ"، قالت: رأيتُه في شِدَّة السعي يَدورُ الإزارُ حولَ بطنِه حتى رأيتُ بياضَ إبطَيْه وفَخِذيه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6943 - لم يصححافظ طلحہ بابر
سیدہ حبیبہ بنت ابی تجراہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جاہلیت کے دور میں ہمارا ایک بالا خانہ (صفہ) تھا، میں نے صفا اور مروہ کے درمیان ایک روشندان سے جھانکا تو رسول اللہ ﷺ نظر آئے، آپ ﷺ سعی فرما رہے تھے اور اپنے صحابہ سے فرما رہے تھے: ”سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کر دی ہے“، وہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو اتنی تیزی سے سعی کرتے دیکھا کہ آپ ﷺ کے پیٹ کے گرد تہبند گھوم رہا تھا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی دونوں بغلوں اور رانوں کی سفیدی دیکھ لی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمر، والتصويب من مصدري التخريج، وهو الذي أثبته المزي في شيوخ محمد المقدمي من "تهذيب الكمال".
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف سے "عمر" لکھا گیا ہے، جبکہ تخریج کے مصادر اور امام مزی کی "تہذیب الکمال" (محمد المقدمی کے شیوخ کے ذیل میں) سے اس کی تصحیح ہوتی ہے۔
(3) حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، الخليل بن عثمان - وهو التميمي كما في رواية الطبراني - وعبد الله بن نُبيه لم نقف لهما على ترجمة. وضعفه الذهبي في "التلخيص".
درجۂ حدیث: اپنے دیگر طرق کے مجموعے کی بنا پر یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ مخصوص سند ضعیف ہے کیونکہ خلیل بن عثمان (التمیمی) اور عبداللہ بن نُبیہ کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہیں۔ امام ذہبی نے بھی "التلخیص" میں اسے ضعیف کہا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2764)، والطبراني في "الكبير" 24/ (576) من طريق محمد بن عمر المقدمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے (2764) اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 24/ (576) میں محمد بن عمر مقدمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف سے "عمر" لکھا گیا ہے، جبکہ تخریج کے مصادر اور امام مزی کی "تہذیب الکمال" (محمد المقدمی کے شیوخ کے ذیل میں) سے اس کی تصحیح ہوتی ہے۔
(3) حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، الخليل بن عثمان - وهو التميمي كما في رواية الطبراني - وعبد الله بن نُبيه لم نقف لهما على ترجمة. وضعفه الذهبي في "التلخيص".
درجۂ حدیث: اپنے دیگر طرق کے مجموعے کی بنا پر یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ مخصوص سند ضعیف ہے کیونکہ خلیل بن عثمان (التمیمی) اور عبداللہ بن نُبیہ کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہیں۔ امام ذہبی نے بھی "التلخیص" میں اسے ضعیف کہا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2764)، والطبراني في "الكبير" 24/ (576) من طريق محمد بن عمر المقدمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے (2764) اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 24/ (576) میں محمد بن عمر مقدمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7120 سے ماخوذ ہے۔