حدیث نمبر: 7023
قال ابن إسحاق: وحدثني بعض أهل العلم: أنَّ فِتيةً من الحبشة رأوا رقيّةَ بنت رسول الله ﷺ وهي هناك مع عثمان، وكانت من أحسنِ البَشَر، وكانوا يختلفون إليها فيَنخِرُونَ (1) عَجَبًا من حُسْنها، إلى أن قتلهم الله في المعركة لما سار النجاشيُّ إلى عدوِّه. قال ابن إسحاق: ويقال: إنَّ عبد الله بن عثمان مات في جمادى الأولى سنة أربعٍ، وهو ابن ست سنين.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے بعض اہل علم نے بتایا کہ حبشہ کے کچھ نوجوانوں نے سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کو وہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ دیکھا، وہ حسن و جمال میں بے مثال تھیں، وہ لوگ حیرت و تعجب سے انہیں دیکھنے آیا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب شاہِ نجاشی اپنے دشمن کے خلاف نکلا تو وہ سب جنگ میں مارے گئے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن عثمان کی وفات سنہ 4 ہجری کے ماہ جمادی الاولیٰ میں ہوئی جب ان کی عمر چھ سال تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7023
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7023] [ترقيم الشركة 6944]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ب): فينتخرون. وهي في النسخ كلها مهملة بلا إعجام. والنخير: مدّ الصوت والنفس في الخياشيم فيخرج صوت كأنه نغمة.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں لفظ "فینتخرون" ہے۔ تمام نسخوں میں یہ بغیر نقطوں (مہملہ) کے ہے۔ "النخیر" کا مطلب نتھنوں سے آواز اور سانس کھینچنا ہے جس سے ایک خاص نغمہ نما آواز نکلتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7023 سے ماخوذ ہے۔