المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَلِيمَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نِكَاحِ صَفِيَّةَ باب: نبی کریم ﷺ کا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح پر ولیمہ کرنا
حدیث نمبر: 6956
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم بن مَصْقَلة، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني محمد بن موسى، عن عُمارة بن المهاجر، عن آمنة بنت أبي قيس الغفارية قالت: أنا إحدى النساء اللاتي زَفَفْنَ صفية إلى رسول الله ﷺ، فسمعتُها تقول: ما بلغت سبع عشرةَ، أو جَهْدي أن بلغت سبع عشرةَ سنةً ليلة دخلت على رسول الله ﷺ. قال: وتوفيت صفية سنة اثنتين وخمسين في زمن معاويةَ، وقُبِرَت بالبقيع (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6789 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
آمنہ بنت ابی قیس غفاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ان خواتین میں شامل تھی جنہوں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو رخصت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچایا تھا، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ”جس رات میری رسول اللہ ﷺ کے پاس رخصتی ہوئی میری عمر سترہ سال تھی، یا زیادہ سے زیادہ سترہ سال کے لگ بھگ ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں سنہ 52 ہجری میں ہوئی اور انہیں البقیع میں دفن کیا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) من فوق محمد بن عمر الواقدي لا بأس بهم فمحمد بن موسى: هو محمد بن موسى بن أبي عبد الله الفطري، صدوق لا بأس به، وشيخه عمارة بن المهاجر روى عنه جماعة، وذكره ابن حبان في "الثقات" 261/ 7، وآمنة ذكرها الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 7/ 518 باسم: أمية بنت أبي قيس، ولم يذكر لها سوى هذا الخبر.
درجۂ حدیث: واقدی سے اوپر کے راوی "لا بأس بھم" ہیں۔ محمد بن موسیٰ (فطری) "صدوق" اور قابل قبول ہیں۔ ان کے شیخ عمارہ بن مہاجر سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" (7/ 261) میں ذکر کیا ہے۔ جبکہ "آمنہ" کا ذکر حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (7/ 518) میں "امیہ بنت ابی قیس" کے نام سے کیا ہے اور ان سے صرف یہی ایک خبر منسوب کی ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 125 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 610، وابن عساكر 3/ 223 - عن محمد الواقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 125)، طبری (11/ 610) اور ابن عساکر (3/ 223) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: واقدی سے اوپر کے راوی "لا بأس بھم" ہیں۔ محمد بن موسیٰ (فطری) "صدوق" اور قابل قبول ہیں۔ ان کے شیخ عمارہ بن مہاجر سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" (7/ 261) میں ذکر کیا ہے۔ جبکہ "آمنہ" کا ذکر حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (7/ 518) میں "امیہ بنت ابی قیس" کے نام سے کیا ہے اور ان سے صرف یہی ایک خبر منسوب کی ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 125 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 610، وابن عساكر 3/ 223 - عن محمد الواقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 125)، طبری (11/ 610) اور ابن عساکر (3/ 223) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6956 سے ماخوذ ہے۔