حدیث نمبر: 6957
أخبرنا دَعْلَج بن أحمد السِّجزي، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري (2)، حدثنا شاذُّ بن فَيَّاض أبو عُبيدة، حدثنا هاشم بن سعيد، عن كنانة، عن صفية قالت: دخل علي رسول الله ﷺ وأنا أبكي، فقال: "يا بنتَ حُيَي، ما يُبكيكِ؟ " قلتُ: بلغني أنَّ حفصة وعائشة تنالان منِّي وتقولان: نحن خيرٌ منها، نحن بنات عم رسول الله ﷺ وأزواجه، قال: "ألا قلت لهم: كيف تكونان خيرًا مني وأبي هارونُ، وعمِّي موسى، وزوجي محمد؟! " صلوات الله عليهم (3). [ذكر أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث ﵂]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے بنتِ حیی! تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟“ میں نے عرض کی: مجھے معلوم ہوا ہے کہ سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما مجھ پر طنز کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں کیونکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی چچی زاد بھی ہیں اور آپ ﷺ کی ازواج بھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے انہیں یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو جبکہ میرے والد ہارون، میرے چچا موسیٰ اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں؟“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6957
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل هاشم بن سعيد الكوفي.» [ترقيم الرساله 6957] [ترقيم الشركة 6877] [ترقيم العلميه 6790]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الصبري.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الصبری" بن گیا تھا۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل هاشم بن سعيد الكوفي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، جبکہ موجودہ سند ہاشم بن سعید کوفی کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3892) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث، عن هاشم بن سعيد الكوفي، بهذا الإسناد. وقال غريب لا نعرفه من حديث صفية إلا من حديث هاشم الكوفي، وليس إسناده بذاك.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3892) نے عبدالصمد بن عبدالوارث عن ہاشم بن سعید کوفی کے واسطے سے روایت کیا اور فرمایا: یہ "غریب" ہے، ہم اسے صفیہ کی حدیث سے صرف ہاشم کوفی کے واسطے سے جانتے ہیں، اور اس کی سند اتنی مضبوط نہیں ہے۔
ويشهد له حديث أنس بن مالك عند أحمد 19/ (12392)، والترمذي (3894)، والنسائي (8870)، وابن حبان (7211)، قال: بلغ صفيةَ أنَّ حفصة قالت: إني ابنة يهودي، فبكت، فدخل عليها النَّبيّ ﷺ وهي تبكي، فقال: "ما شأنُكِ؟ " فقالت: قالت لي حفصة: إني ابنة يهودي، فقال النَّبيّ ﷺ: "إنك ابنة نبيٍّ، وإنَّ عمك لنبيٌّ، وإنك لتحت نبيّ، ففيم تفخر عليك؟! " ثم قال: "اتقي الله يا حفصة". وإسناده صحيح.
متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت انس بن مالک کی حدیث سے ہوتی ہے جو مسند احمد (19/ 12392)، ترمذی (3894)، نسائی (8870) اور ابن حبان (7211) میں ہے کہ سیدہ صفیہ کو یہ بات پہنچی کہ حفصہ نے انہیں "یہودی کی بیٹی" کہا ہے، تو وہ رونے لگیں۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: "تمہیں کیا ہوا؟" انہوں نے بتایا کہ حفصہ نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ تم ایک نبی (ہارون علیہ السلام) کی بیٹی ہو، تمہارے چچا (موسیٰ علیہ السلام) بھی نبی ہیں، اور تم ایک نبی (محمد ﷺ) کے نکاح میں ہو، تو وہ تم پر کس چیز میں فخر کر سکتی ہیں؟" پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "اے حفصہ! اللہ سے ڈرو"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6957 سے ماخوذ ہے۔