المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
نِكَاحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ باب: نبی کریم ﷺ کا (سیدہ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کا تذکرہ
حدیث نمبر: 6936
قال ابن عمر: وحدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن أبي موسى، عن محمد بن كعب، عن عبد الله بن أبي سَلِيط قال: رأيتُ أبا أحمد بن جَحش يحملُ سريرَ زينب وهو مكفوفٌ وهو يبكي، وأسمعُ عمرَ يقول: يا أبا أحمد، تنحَّ عن السَّرير لا يُعنِتْك الناسُ، وازدحمَ الناسُ على سريرِها، فقال أبو أحمد: هذه التي نِلنا بها كلَّ خير، وإنَّ هذا يَبْرُدُ حرَّ ما أَجِدُ، فقال عمر: الزَمْ الزَمْ (1).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی سلیط سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابو احمد بن جحش کو دیکھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ اٹھائے ہوئے تھے جبکہ وہ نابینا تھے اور رو رہے تھے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے ابو احمد! جنازے سے ہٹ جاؤ تاکہ لوگ تمہیں تکلیف نہ دیں“، کیونکہ ان کے جنازے پر لوگوں کا بہت ہجوم تھا، تو ابو احمد نے کہا: ”یہ وہی ہستی ہیں جن کے ذریعے ہم نے ہر بھلائی پائی، اور یہ عمل اس تپش کو ٹھنڈا کر رہا ہے جو میں (جدائی کے غم میں) محسوس کر رہا ہوں“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لگے رہو، لگے رہو (یعنی ساتھ ہی رہو)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف كسابقه. أبو موسى: هو أيوب بن موسى بن عمرو الأموي.
درجۂ حدیث: یہ سند سابقہ سند کی طرح "تالف" ہے۔
اہم نکتہ: ابو موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو الاموی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 110 عن الواقديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 110) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند سابقہ سند کی طرح "تالف" ہے۔
اہم نکتہ: ابو موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو الاموی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 110 عن الواقديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 110) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6936 سے ماخوذ ہے۔