المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا حارث بن مالک ابن البرصاء لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6777
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سلَّام، حدثنا أبو عُبيدة قال: الحارثُ ابن البَرْصاء هو الحارث بن مالك بن قيس بن عُوَيذ (2) ابن عبد الله بن جابر بن عبد مَنَاف بن شِجْع بن عامر بن ليث، وأمُّه البَرْصاء بنتُ عبد الله بن رَبيعة الهِلاليَّة، أقام بمكةَ ثم نزل الكوفةَ.
حافظ طلحہ بابر
ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ حارث بن برصاء دراصل حارث بن مالک بن قیس بن عویذ بن عبداللہ بن جابر بن عبدمناف بن شجع بن عامر بن لیث ہیں، ان کی والدہ برصاء بنت عبداللہ بن ربیعہ ہلالیہ تھیں، انہوں نے مکہ میں قیام کیا اور پھر بعد میں کوفہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا في النسخ الخطية، ومثله في "معرفة الصحابة" لأبي نعيم 2/ 780، وأما في "الإكمال" لابن ماكولا 6/ 304، و"الاستيعاب" لابن عبد البر ص 146، و"أسد الغابة" لابن الأثير 1/ 413، و"الإصابة" لابن حجر 1/ 596 ففيها: عوذ.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح ہے، اور ابو نعیم کی "معرفہ الصحابہ" 2/ 780 میں بھی ایسا ہی ہے، لیکن ابن ماکولا کی "الاکمال" 6/ 304، ابن عبد البر کی "الاستیعاب" ص 146، ابن اثیر کی "اسد الغابہ" 1/ 413 اور حافظ ابن حجر کی "الاصابہ" 1/ 596 میں یہ نام "عوذ" مذکور ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح ہے، اور ابو نعیم کی "معرفہ الصحابہ" 2/ 780 میں بھی ایسا ہی ہے، لیکن ابن ماکولا کی "الاکمال" 6/ 304، ابن عبد البر کی "الاستیعاب" ص 146، ابن اثیر کی "اسد الغابہ" 1/ 413 اور حافظ ابن حجر کی "الاصابہ" 1/ 596 میں یہ نام "عوذ" مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6777 سے ماخوذ ہے۔