حدیث نمبر: 67
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا أبو سَلَمة ومحمد بن عبد الله الخُزاعي قالا: حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس قال: قرأ رسول الله ﷺ ﴿قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ﴾ [الأعراف: 143] قال: "فأخرجَ من النُّور مثلَ هذا - وأشار (2) إلى نصف أَنمَلةِ الخِنْصِر، فضرب بها صدرَ حمَّاد - قال: فسَاخَ الجبلُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ﴾ ”عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار کرا کہ میں تجھے دیکھ لوں“ [سورة الأعراف: 143]، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اللہ نے اپنے نور میں سے اتنا سا ظاہر کیا - اور آپ ﷺ نے اپنی چھوٹی انگلی کے آدھے پور سے اشارہ فرمایا اور اسے حماد کے سینے پر مارا - تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 67
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، كسابقه» [ترقيم الرساله 67] [ترقيم الشركة 67]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في المطبوع: وأشار بيده.
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: "اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا"۔
(3) إسناده صحيح كسابقه.
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایت کی طرح صحیح ہے۔
الأَنمَلة: عُقْدة الإصبع التي فيها الظُّفر.
نوٹ / توضیح: "انملہ" انگلی کے اس پور (جوڑ) کو کہتے ہیں جس پر ناخن ہوتا ہے۔
وقوله: "فساخ الجبل" أي: غاص في الأرض.
نوٹ / توضیح: قول "فساخ الجبل" کا مطلب ہے کہ پہاڑ زمین میں دھنس گیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 67 سے ماخوذ ہے۔