المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
تخليل الأصابع في الوضوء باب: وضو میں انگلیوں کا خلال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 662
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا عيسى بن المسيَّب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يأتي دار قوم من الأنصار ودونهم دُورٌ لا يأتيها، فشَقَّ ذلك عليهم فقالوا: يا رسول الله، تأتي دارَ فلان ولا تأتي دارَنا؟! فقال النَّبِيّ ﷺ: "إِنَّ في دارِكم كلبًا" قالوا: إنَّ في دارِهم سِنَّورًا، فقال النَّبِيّ ﷺ: "السِّنَّورُ سَبُع" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک گھر تشریف لائے اور ان کے قریب دوسرے گھروں میں نہیں گئے، ان پر یہ بات گراں گزری تو عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ فلاں کے گھر تشریف لے گئے لیکن ہمارے ہاں نہیں آئے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے گھر میں کتا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: ”ان کے گھر میں بھی تو بلی ہے،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلی درندہ (طہارت والا) ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف عيسى بن المسيب، وبه ضعَّفه الذهبي في "تلخيصه". أبو زرعة: هو ابن عمرو بن جرير البَجلي.
درجۂ حدیث: اس کی سند عیسیٰ بن مسیب کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسی بنا پر امام ذہبی نے 'تلخیص' میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: 'ابو زرعہ' سے مراد ابو زرعہ بن عمرو بن جریر بجلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8342) عن هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8342) نے ہاشم بن قاسم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند عیسیٰ بن مسیب کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسی بنا پر امام ذہبی نے 'تلخیص' میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: 'ابو زرعہ' سے مراد ابو زرعہ بن عمرو بن جریر بجلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8342) عن هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8342) نے ہاشم بن قاسم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 662 سے ماخوذ ہے۔