المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
تخليل الأصابع في الوضوء باب: وضو میں انگلیوں کا خلال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أُسَيد بن عاصم، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل، حَدَّثَنَا قَبِيصة، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي هاشم، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرةً، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا توضَّأتَ فخلِّلِ الأصابع" (1).
هذا حديث قد احتجَّا بأكثر رُوَاته ثم لم يُخرجاه لتفرُّد عاصم بن لَقِيط بن عامر ابن صَبِرة عن أبيه بالرواية، وقد قدَّمنا القولَ فيه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 647 - لم يخرجاه لتفرد عاصم بأبيه وله شاهدحافظ طلحہ بابر
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کے اکثر راوی ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے عاصم بن لقیط کے تفرد کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، وأبو هاشم: هو إسماعيل بن كثير.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'سفیان' سے مراد سفیان ثوری ہیں، اور 'ابو ہاشم' سے مراد اسماعیل بن کثیر ہیں۔
والحديث في "مسند أحمد" 26/ (16381). وقد سلف برقم (529).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث 'مسند احمد' 26/ (16381) میں موجود ہے، اور اس سے قبل نمبر (529) پر بھی گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'سفیان' سے مراد سفیان ثوری ہیں، اور 'ابو ہاشم' سے مراد اسماعیل بن کثیر ہیں۔
والحديث في "مسند أحمد" 26/ (16381). وقد سلف برقم (529).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث 'مسند احمد' 26/ (16381) میں موجود ہے، اور اس سے قبل نمبر (529) پر بھی گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 660 سے ماخوذ ہے۔