المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ بَيْعَةِ الصَّغِيرِ باب: کم عمر بچے کی بیعت کا ذکر
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، عن جعفر بن خالد بن سارَةَ، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفر قال: لو رأيتَني وعُبيد الله وقُثَمَ ونحن نلعبُ، إذْ مرَّ بنا رسول الله ﷺ فقال: "ارفَعُوا هذا إليَّ"، فحَمَلَني أمامَه، وقال لقُثَم: "ارفَعُوا هذا إليَّ"، فجعله وراءَه، وكان عبيدُ الله أحبَّ إلى عبّاس من قُثَم، ما استَحيَى من عمِّه، قال: قلت: ما فعل قثمُ؟ قال: استُشهِد، قال: قلت: اللهُ ورسولُه أعلمُ بالخِيَرةِ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6411 - صحيحجعفر بن خالد بن سارہ اپنے والد سے، وہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: کاش تم مجھے، عبیداللہ اور قثم کو دیکھتے جب ہم بچے تھے اور کھیل رہے تھے، اسی دوران رسول اللہ ﷺ کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اٹھا کر میرے پاس لاؤ،“ اور مجھے اپنی سواری پر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر قثم کے متعلق فرمایا: ”اسے بھی اٹھا کر میرے پاس لاؤ،“ اور اسے اپنے پیچھے بٹھا لیا، جبکہ عبیداللہ (اپنے بھائی) قثم کی نسبت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو زیادہ محبوب تھے، مگر آپ ﷺ نے اپنے چچا سے حیا فرمائی (کہ ان کا ایک ہی بیٹا سواری پر لیا)۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: قثم کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: وہ شہید ہو گئے۔ میں نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں کہ کسے کیا خیر عطا فرمانی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: خالد بن سارہ کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے رقم (1394) پر گزر چکی ہے۔