حدیث نمبر: 6341
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أحمد بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا وُهَيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن عبَّاد بن تَميم قال: لما كان زمنُ الحَرَّةِ جاء رجلٌ إلى عبد الله بن زيد فقال: هذا ابنُ حَنظلةَ يبايعُ الناسَ على الموت، فقال: لا أبايعُ على هذا أحدًا بعد رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ذكرُ رَبِيعة بن كعب الأسلمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6215 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

عباد بن تمیم بیان کرتے ہیں کہ جب واقعہ حرہ کا وقت آیا تو ایک شخص سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”یہ ابن حنظلہ لوگوں سے موت پر بیعت لے رہے ہیں،“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے بعد اب کسی سے اس (موت) پر بیعت نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن غالب: هو بن غالب هو الحافظ تمتام، ووهيب هو ابن خالد بن عجلان وعمرو بن يحيى: هو ابن عمارة الأنصاري.» [ترقيم الرساله 6341] [ترقيم الشركة 6274] [ترقيم العلميه 6215]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. محمد بن غالب: هو بن غالب هو الحافظ تمتام، ووهيب هو ابن خالد بن عجلان وعمرو بن يحيى: هو ابن عمارة الأنصاري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: محمد بن غالب سے مراد حافظ تمتام ہیں، وُہیب سے مراد ابن خالد بن عجلان اور عمرو بن یحییٰ سے مراد ابن عمارہ الانصاری ہیں۔
وأخرجه أحمد 26 / (16471)، والبخاري (2959)، ومسلم (1861) من طرق عن وهيب ابن خالد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (26/ 16471)، بخاری (2959) اور مسلم (1861) نے وہیب بن خالد کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر مستدرک کرنا ان کا 'ذہول' (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے ان کتب میں موجود ہے۔
وخالف مؤمَّل بن إسماعيل عند أحمد (16463) فرواه عن وهيب، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه يحيى بن عمارة، عن عبد الله بن زيد ومؤمَّل سيئ الحفظ.
فنی نکتہ / علّت: مؤمل بن اسماعیل نے (امام احمد کے ہاں) مخالفت کرتے ہوئے اسے 'عن ابیہ' کے واسطے سے روایت کیا ہے، مگر مؤمل 'سیء الحفظ' (کمزور حافظے والے) ہیں۔
وأخرجه البخاري (4167) من طريق سليمان بن بلال، عن عمرو بن يحيى، عن عبَّاد بن تميم، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (4167) نے سلیمان بن بلال عن عمرو بن یحییٰ عن عباد بن تمیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وابن حنظلة: هو عبد الله بن حنظلة بن أبي عامر الأنصاري، وأبوه هو المعروف بحنظلة غسيل الملائكة الذي استُشهد يوم أُحد فغسّلته الملائكة لأنه قتل وهو جُنُب. وقُتل عبد الله بن حنظلة هذا يوم الحرة سنة ثلاث وستين وكانت الأنصار بايعته يومئذٍ.
ناموں کی تحقیق: ابن حنظلہ سے مراد عبد اللہ بن حنظلہ انصاری ہیں۔
نوٹ / توضیح: ان کے والد حنظلہ 'غسیل الملائکہ' (فرشتوں کے غسل دیے ہوئے) مشہور ہیں جو احد میں حالتِ جنابت میں شہید ہوئے تھے۔ عبد اللہ بن حنظلہ 63ھ میں 'واقعہ حرہ' کے دن شہید ہوئے، اس دن انصار نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6341 سے ماخوذ ہے۔