حدیث نمبر: 6296
حدثني محمد بن عُبيدٍ الفقيه أخبرنا أبو حامد الشَّرْقي ومَكّي بن عَبْدَان قالا: حَدَّثَنَا أبو الأزهَر، حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير، حَدَّثَنَا أبي قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يحدِّث عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن أبي أَنس مالك بن أبي عامر قال: كنت عند طلحةَ بن عبيد الله، فدخل عليه رجلٌ فقال: يا أبا محمد واللهِ ما ندري هذا اليَمانِي أعلمُ برسول الله ﷺ أم أنتم؟ يقول على رسول الله ﷺ ما لم يقل - يعني أبا هريرة -! فقال طلحة: والله ما نَشُكُّ أنه سمع من رسول الله ﷺ ما لم نسمع، وعَلِمَ ما لم نعلم إنَّا كنَّا قومًا أغنياءَ لنا بيوتٌ وأهْلُونَ، كنّا نأتي نبيَّ الله ﷺ طَرَفَي النهار ثم نَرجِع، وكان أبو هريرة مِسكينًا لا مالَ له ولا أهلَ ولا ولدَ، إنما كانت يدُه مع يدِ النَّبِيّ ﷺ، وكان يَدُور معه حيثُ ما دار، ولا نشكُّ أنه قد عَلِم ما لم نعلم، وسَمِع ما لم نسمع، ولم يتَّهِمْه أحدٌ منا أن يقول على رسول الله ﷺ ما لم يقل (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6172 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

ابوانس مالک بن ابی عامر بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص داخل ہوا اور کہنے لگا: ”اے ابومحمد! اللہ کی قسم ہمیں معلوم نہیں کہ یہ یمنی (ابوہریرہ) رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آپ لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہے یا کیا بات ہے؟ وہ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے وہ باتیں کہتا ہے جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائیں —یعنی اس کا اشارہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا—!“ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے وہ کچھ سنا ہے جو ہم نے نہیں سنا، اور وہ کچھ جانا ہے جو ہم نے نہیں جانا، کیونکہ ہم مالدار لوگ تھے، ہمارے گھر بار اور اہل و عیال تھے، ہم دن کے دونوں حصوں میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور پھر واپس چلے جاتے، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسکین تھے، نہ ان کے پاس مال تھا، نہ اہل و عیال اور نہ اولاد، ان کا ہاتھ تو بس نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں رہتا تھا اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ ہر جگہ موجود رہتے تھے، اس لیے ہمیں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے وہ کچھ جانا جو ہم نہ جان سکے اور وہ کچھ سنا جو ہم نہ سن سکے، اور ہم میں سے کسی نے بھی ان پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ذمے ایسی بات لگائیں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6296
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. أبو الأزهر: هو أحمد بن الأزهر النيسابوري.» [ترقيم الرساله 6296] [ترقيم الشركة 6229] [ترقيم العلميه 6172]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. أبو الأزهر: هو أحمد بن الأزهر النيسابوري.
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابو الازہر سے مراد احمد بن الازہر النیشاپوری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3837) من طريق محمد بن سلمة الحراني عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3837) نے محمد بن سلمہ الحرانی عن محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے اور اسے 'حسن غریب' قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6296 سے ماخوذ ہے۔