حدیث نمبر: 6149
حَدَّثَنَا محمد بن المُظفَّر الحافظ، حَدَّثَنَا بكر بن أحمد بن حفص الوَصَّابي بحِمْص، حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن محمد بن عيسى صاحبُ "التاريخ" (2)، قال: وممّا انتهى إلينا من خبر حِمْص ومَن نزلها من أصحاب رسول الله ﷺ، ومِن مَوالي قريش: ثَوْبانُ بن جَحْدَر (3)، يكنى أبا عبد الله، رجلٌ من الألْهانِ أصابه السَّبيُ، فأعتقه رسولُ الله ﷺ، وقال له: "يا ثوبانُ، إن شئتَ أن تَلحَقَ مَن (4) أنت منه فعلتَ، فأنت منهم، وإن شئتَ أن تَثبُتَ، وأنت منّا (5) أهلَ البيت على ولاءِ رسولِ الله" قال: بل أثبتُ على ولاءِ رسولِ الله ﷺ. فمات بحِمصَ في إمارةِ عبد الله بن قُرْطٍ عليها سنةَ أربعٍ وخمسين (6).
حافظ طلحہ بابر

احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت ہے کہ حمص کے حالات اور وہاں مقیم ہونے والے صحابہ میں سے ثوبان بن جحدر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی، ان کا تعلق قبیلہ الہان سے تھا، وہ قیدی ہو کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزاد فرما دیا اور ان سے فرمایا: ”اے ثوبان! اگر تم چاہو تو ان لوگوں سے جا ملو جن سے تمہارا تعلق ہے، پھر تم انہی میں سے ہو گے، اور اگر تم چاہو تو یہیں قیام کرو تو تم ہم اہل بیت میں سے ہو گے اور رسول اللہ کی ولاء (وفاداری و وراثت کے رشتے) پر رہو گے،“ انہوں نے کہا: بلکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولاء پر ہی قائم رہوں گا، پس ان کی وفات 54 ہجری میں عبد اللہ بن قرط کی امارت کے دوران حمص میں ہوئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6149
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6149] [ترقيم الشركة 6091]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) يعني "تاريخ الحمصيين" كما في "تاريخ دمشق" لابن عساكر 5/ 433.
نوٹ / توضیح: اس سے مراد "تاریخ الحمصيين" ہے جیسا کہ ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (5/ 433) میں اشارہ موجود ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: جحدب، بالباء، والمثبت من مصادر ترجمته، فهو ثوبان بن جَحْدَر - كجَعْفَر - ويقال: يُجْدُد. أما لغةً: فجَحدر وجُحدب هما بمعنًى، وهو الرجل القصير.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "جحدب" تحریف ہو گیا ہے، درست نام "ثوبان بن جحدر" ہے (جیسے جعفر)۔ لغوی طور پر جحدر اور جحدب دونوں کا ایک ہی معنی ہے، یعنی "پستہ قد شخص"۔
(4) في (ص): بمن.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں لفظ "بمن" آیا ہے۔
(5) في (ص): معنا.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں لفظ "معنا" مذکور ہے۔
(6) أخرجه ابن عساكر 11/ 170 و 172 من طريق محمد بن المظفر، بهذا الإسناد. وابن عيسى صاحب "التاريخ" ذكره عن النَّبِيّ ﷺ مرسلًا بلا إسناد ولا يصح.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (11/ 170، 172) نے محمد بن المظفر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ابن عیسیٰ نے اپنی "تاریخ" میں اسے نبی ﷺ سے بغیر سند کے مرسلاً ذکر کیا ہے اور یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6149 سے ماخوذ ہے۔