المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام) کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6148
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خليفة بن خيَّاطٍ قال: ثَوبانُ مولى رسول الله ﷺ، أصلُه من اليمن، أصابه سَبْيٌ، فمَنَّ عليه رسولُ الله ﷺ، يُكْنى أبا عبد الله، مات بمِصر سنة أربع وخمسين (1).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ثوبان رضی اللہ عنہ کا تعلق اصل میں یمن سے تھا، وہ جنگی قیدی بن کر آئے تھے پھر رسول اللہ ﷺ نے ان پر احسان کرتے ہوئے انہیں آزاد فرما دیا، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور ان کی وفات 54 ہجری میں مصر میں ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وهو في "الطبقات" لخليفة بن خياط ص 7 و 191، وقد تفرَّد خليفة بذكر أن وفاته بمصر، فقد قال الآخرون: إنه مات بحمص، كما في "طبقات ابن سعد" 5/ 98 و 9/ 404. وانظر "تاريخ دمشق" لابن عساكر 11/ 169 وما بعدها.
حوالہ / مصدر: یہ خلیفہ بن خیاط کی "طبقات" (ص 7، 191) میں ہے۔
فنی نکتہ / علّت: خلیفہ نے ان کی وفات مصر میں ہونے کا ذکر کر کے تفرد کیا ہے، جبکہ دیگر اہل علم (جیسے ابن سعد) کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی تھی۔ مزید تفصیل ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (11/ 169) میں دیکھیں۔
حوالہ / مصدر: یہ خلیفہ بن خیاط کی "طبقات" (ص 7، 191) میں ہے۔
فنی نکتہ / علّت: خلیفہ نے ان کی وفات مصر میں ہونے کا ذکر کر کے تفرد کیا ہے، جبکہ دیگر اہل علم (جیسے ابن سعد) کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی تھی۔ مزید تفصیل ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (11/ 169) میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6148 سے ماخوذ ہے۔