المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الْمَسْحُ عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ وَالْعِمَامَةِ باب: پٹّیوں، جرابوں اور عمامہ پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 611
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن ثَوْر، عن راشد بن سعد، عن ثَوْبان قال: بَعَثَض رسول الله ﷺ سَرِيَّةً فأصابهم البردُ، فلما قَدِمُوا على رسول الله ﷺ أمَرهم أن يمسحوا على العصائب والتَّساخين (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على المسح على العِمامة بغير هذا اللفظ (3). ولهذا شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 602 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا، انہیں سخت سردی کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں عماموں اور موزوں (پاؤں گرم رکھنے والی چیزوں) پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے عمامے پر مسح کی دیگر روایات پر اتفاق کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح ثور: هو ابن يزيد الكَلَاعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ثور سے مراد ثور بن یزید الکلاعی ہیں۔
والحديث في "مسند أحمد" 37/ (22383)، وعن أحمد أخرجه أيضًا أبو داود برقم (146).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث مسند احمد 37/ (22383) میں ہے، اور احمد ہی کے طریق سے اسے ابوداؤد نے نمبر (146) پر روایت کیا ہے۔
العصائب: العمائم، والتساخين: كل ما تُسخَّن به القدم من خفٌ وجوربٍ.
نوٹ / توضیح: "العصائب" سے مراد عمامے (پگڑیاں) ہیں، اور "التساخين" سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے پاؤں کو گرم رکھا جائے جیسے چمڑے کے موزے یا کپڑے کی جرابیں۔
(3) أخرج المسح على العمامة البخاريّ (205) من حديث عمرو بن أمية الضمري قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ يمسح على عِمامته وخفيه. ومسلم (274) (81) من حديث المغيرة بن شعبة قال: .... ومسح بناصيته وعلى العِمامة وعلى خفيه.
حوالہ / مصدر: عمامے پر مسح کی روایت امام بخاری (205) نے عمرو بن امیہ الضمری سے، اور امام مسلم (274/ 81) نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جس میں پیشانی، عمامے اور موزوں پر مسح کا ذکر ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ثور سے مراد ثور بن یزید الکلاعی ہیں۔
والحديث في "مسند أحمد" 37/ (22383)، وعن أحمد أخرجه أيضًا أبو داود برقم (146).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث مسند احمد 37/ (22383) میں ہے، اور احمد ہی کے طریق سے اسے ابوداؤد نے نمبر (146) پر روایت کیا ہے۔
العصائب: العمائم، والتساخين: كل ما تُسخَّن به القدم من خفٌ وجوربٍ.
نوٹ / توضیح: "العصائب" سے مراد عمامے (پگڑیاں) ہیں، اور "التساخين" سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے پاؤں کو گرم رکھا جائے جیسے چمڑے کے موزے یا کپڑے کی جرابیں۔
(3) أخرج المسح على العمامة البخاريّ (205) من حديث عمرو بن أمية الضمري قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ يمسح على عِمامته وخفيه. ومسلم (274) (81) من حديث المغيرة بن شعبة قال: .... ومسح بناصيته وعلى العِمامة وعلى خفيه.
حوالہ / مصدر: عمامے پر مسح کی روایت امام بخاری (205) نے عمرو بن امیہ الضمری سے، اور امام مسلم (274/ 81) نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جس میں پیشانی، عمامے اور موزوں پر مسح کا ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 611 سے ماخوذ ہے۔