حدیث نمبر: 612
حدَّثَناه أبو النَّضْر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أحمد بن صالح، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد العزيز بن مُسلِم، عن أبي مَعقِل، عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله ﷺ يتوضأُ وعليه عِمامةٌ قِطْريَّة، فأدخل يدَه من تحت العِمامة، فمَسَحَ مُقدَّمَ رأسِه ولم يَنقُضِ العِمامة (4). هذا الحديث وإن لم يكن إسنادُه من شرط الكتاب، فإنَّ فيه لفظةً غريبةً: وهي أنه مَسَحَ على بعض الرأس ولم يمسح على عِمامته.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 603 - لو صح لدل على مسح بعض الرأس
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وضو فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کے سر پر قطری عمامہ تھا، آپ ﷺ نے عمامے کے نیچے ہاتھ ڈال کر اپنے سر کے اگلے حصے کا مسح کیا اور عمامہ نہیں اتارا۔
اگرچہ اس کی سند شرائط کے مطابق نہیں لیکن اس میں یہ نایاب لفظ ہے کہ آپ ﷺ نے سر کے کچھ حصے پر مسح کیا اور عمامے پر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 612
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة عبد العزيز بن مسلم» [ترقيم الرساله 612] [ترقيم الشركة 607] [ترقيم العلميه 603]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده ضعيف لجهالة عبد العزيز بن مسلم - وهو المدني - وشيخه أبي معقل.

وأخرجه أبو داود (147) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.

درجۂ حدیث: یہ سند عبدالعزیز بن مسلم المدنی اور ان کے شیخ ابو معقل کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے (147) میں احمد بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (564) عن أحمد بن عمرو بن السرح، عن ابن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (564) میں احمد بن عمرو بن السرح عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
والقِطْرية، بكسر القاف: نسبة إلى: قَطَر بفتحتين.
نوٹ / توضیح: لفظ "القِطْرية" (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کی نسبت "قَطَر" (قاف اور طا کے فتحہ کے ساتھ) کی طرف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 612 سے ماخوذ ہے۔