حدیث نمبر: 5990
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا عبد الله بن يزيدَ المُقرئ، حدثنا عُيَينة بن عبد الرحمن بن جَوْشَن، عن أبيه، قال: خرجتُ في جِنازة عبد الرحمن بن سَمُرة وزيادٌ يمشي أمامَ الجِنازة، فجعل رِجالٌ من مَوالِيه يَمشُون على أعقابِهم أمامَ الجِنازة، ويقولون: رُويدًا رويدًا، بارك الله فيكم، قال: فلَحِقَنا أبو بَكْرةَ في بعض طريق المِرْبَد، فلما رأى أولئكَ وما يَصنَعُون حَمَل عليهم بالبَغْلة (3)، وأَهْوى إليهم بالسَّوْط، وقال: خَلُّوا، فوالذي كَرَّم وجهَ أبي القاسم ﷺ، لقد رأيتُنا مع رسول الله ﷺ وإنا لَنَكادُ أن نَرمُلَ بها رَمَلًا (4).
حافظ طلحہ بابر

عیینہ بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں نکلا تو زیاد جنازے کے آگے پیدل چل رہا تھا، ان (عبد الرحمن بن سمرہ) کے کچھ آزاد کردہ غلام جنازے کے آگے الٹے قدموں چلتے ہوئے کہہ رہے تھے: ”آرام سے، آرام سے، اللہ تم میں برکت فرمائے“، راوی کہتے ہیں کہ راستے میں مقامِ مربد پر ہمیں سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ملے، جب انہوں نے ان لوگوں کا یہ فعل دیکھا تو ان پر اپنی خچر چڑھا دی اور کوڑے سے انہیں مارنے کا اشارہ کیا اور فرمایا: ”راستہ چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس نے ابوالقاسم ﷺ کے چہرے کو مکرم بنایا! میں نے خود کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہم جنازہ لے کر اس تیزی سے چلتے تھے کہ قریب تھا کہ ہم دوڑنے لگیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5990
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5990] [ترقيم الشركة 5931]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى الغلبة والتصويب من مصادر التخريج.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الغلبہ" بن گیا ہے، اس کی تصحیح تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(4) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 34 / (20400) عن يحيى بن سعيد القطّان، وأبو داود (3183)، والنسائي (2050) من طريق خالد بن الحارث، وأبو داود (3183) من طريق عيسى بن يونس، وابن حبان (3043) من طريق إسماعيل بن إبراهيم - وهو ابن عُليَّة - أربعتهم عن عُيينة بن عبد الرحمن، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (34/ 20400) نے یحییٰ بن سعید القطان سے؛ ابو داود (3183) اور نسائی (2050) نے خالد بن الحارث کے طریق سے؛ ابو داود (3183) نے عیسیٰ بن یونس کے طریق سے؛ اور ابن حبان (3043) نے اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ چاروں عیینہ بن عبدالرحمن سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم مختصرًا بحديث أبي بكرة المرفوع برقم (1327) من طريق هُشَيم بن بشير، وسيأتي مختصرًا أيضًا برقم (5997) من طريق شعبة بن الحجاج، كلاهما عن عُيينة. لكن وقع في حديث شعبة وحده في جنازة عثمان بن أبي العاص، وخالفه غيره من الرواة عن عُيينة بن عبد الرحمن.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث مختصراً ابو بکرہ کی مرفوع حدیث میں نمبر (1327) پر ہشیم بن بشیر کے طریق سے گزر چکی ہے، اور آگے مختصراً نمبر (5997) پر شعبہ بن الحجاج کے طریق سے بھی آئے گی۔ یہ دونوں عیینہ سے روایت کرتے ہیں۔ لیکن صرف شعبہ کی حدیث میں "عثمان بن ابی العاص کے جنازے میں" کا ذکر آیا ہے، اور عیینہ بن عبدالرحمن سے روایت کرنے والے دیگر راویوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5990 سے ماخوذ ہے۔