المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ الْقُرَشِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5991
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ وأبو بكر بن إسحاقَ، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن أبي موسى، سمع الحَسَنَ يقول: حدثنا عبدُ الرحمن بن سَمُرة بن حَبيب بن عبد شمسٍ (1). ذكرُ مناقب عبد الرحمن بن عُثمان التَّيْمي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5877 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ولم يذكر المصنف هنا حديثًا بهذا الإسناد، وقد تقدم هذا الإسناد عند المصنف برقم (4868) في قصة مصالحة الحسن بن علي ومعاوية بن أبي سفيان ﵄، وذكر فيه الحسن البصري عبدَ الرحمن بن سَمُرة ابن حبيب بن عبد شمس رسولًا لمعاوية إلى الحسن بن علي، وليس فيه تصريح الحسن البصري بتحديث عبد الرحمن بن سَمُرة له بالقصة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ مصنف نے یہاں اس سند کے ساتھ کوئی حدیث ذکر نہیں کی، البتہ یہ سند مصنف کے ہاں نمبر (4868) پر حسن بن علی اور معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہم) کی صلح کے قصے میں گزر چکی ہے۔ وہاں حسن بصری نے عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس کا ذکر کیا ہے کہ وہ معاویہ کی طرف سے حسن بن علی کے پاس ایلچی بن کر گئے تھے، لیکن اس میں حسن بصری کی یہ تصریح نہیں ہے کہ عبدالرحمن بن سمرہ نے انہیں یہ قصہ بیان کیا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ مصنف نے یہاں اس سند کے ساتھ کوئی حدیث ذکر نہیں کی، البتہ یہ سند مصنف کے ہاں نمبر (4868) پر حسن بن علی اور معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہم) کی صلح کے قصے میں گزر چکی ہے۔ وہاں حسن بصری نے عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس کا ذکر کیا ہے کہ وہ معاویہ کی طرف سے حسن بن علی کے پاس ایلچی بن کر گئے تھے، لیکن اس میں حسن بصری کی یہ تصریح نہیں ہے کہ عبدالرحمن بن سمرہ نے انہیں یہ قصہ بیان کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5991 سے ماخوذ ہے۔