المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ الْجَنَابَةِ وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ وَالْحِجَامَةِ باب: چار چیزوں سے غسل کیا جاتا ہے: جنابت، جمعہ کے دن، میت کو غسل دینے کے بعد اور حجامہ کے بعد۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا يحيى بن سُلَيم، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: دَخَلَت فاطمةُ على رسول الله ﷺ وهي تبكي، فقال: "يا بُنيَّةُ، ما يُبكيكِ؟ " قالت: يا أبتِ، ما لي لا أبكي وهؤلاءِ الملأُ من قريش في الحِجْر يتعاقدون باللات والعزَّى ومَنَاة الثالثة الأخرى، لو قد رأَوك لقاموا إليك فيقتلونك، وليس منهم رجل إلّا وقد عَرَفَ نصيبَه من دمك، فقال: "يا بنيةُ، ائتِني بوَضُوءٍ" فتوضأ رسولُ الله ﷺ ثم خرج إلى المسجد، فلما رأَوه قالوا: ها هو ذا، فطأطؤوا رؤوسَهم وسقطت أذقانهم تراب فحَصَبَهم بها، وقال: "شاهَتِ الوجوهُ"، فما أصاب رجلًا منهم حَصَاةٌ من بين ثُدِيِّهم فلم يرفعوا أبصارَهم، فتناوَلَ رسولُ الله ﷺ قبضةً من حصاته إلّا قُتِلَ يوم بدر كافرًا (1).
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بيحيى بن سُلَيم، واحتجَّ مسلم بعبد الله بن عثمان بن خُثَيم، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلةً، وأهل السُّنة من أحوج الناس لمعارَضة ما قيل: إِنَّ الوضوء لم يكن قبل نزول المائدة، ولا خلافَ بين أصحاب التواريخ أنَّ هذا الوضوءَ في ابتداء الإسلام قبلَ نزول المائدة، وإنما نزولُ المائدة في حَجَّة الوداع والنبيُّ ﷺ بعَرَفات. وله شاهد صحيح ناطِقٌ بأنَّ النَّبِيّ ﷺ كان يتوضَّأُ ويأمر بالوضوء قبل الهِجْرة، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 583 - صحيحسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس روتے ہوئے آئیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے میری بیٹی! تمہیں کس چیز نے رلایا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے میرے ابا جان! میں کیوں نہ روؤں جبکہ قریش کے یہ سردار حطیم میں لات، عزیٰ اور منات کی قسمیں کھا کر آپ کو قتل کرنے کا معاہدہ کر رہے ہیں، اگر وہ آپ کو دیکھ لیں تو آپ پر ٹوٹ پڑیں گے،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ،“ آپ ﷺ نے وضو کیا اور مسجد کی طرف نکلے، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو ان کے سر جھک گئے، آپ ﷺ نے کنکریاں اٹھا کر ان کی طرف پھینکیں اور فرمایا: ”یہ چہرے بگڑ جائیں،“ جنہیں وہ کنکریاں لگیں وہ سب جنگِ بدر میں کافر ہو کر مارے گئے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم کی شرط پر ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وضو کا حکم اسلام کے آغاز ہی میں موجود تھا قبل اس کے کہ سورہ مائدہ نازل ہوتی۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث قوی ہے، البتہ یہ سند یحییٰ بن سلیم الطائفی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2762) عن إسحاق بن عيسى، عن يحيى بن سليم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (4/ 2762) میں اسحاق بن عیسیٰ عن یحییٰ بن سلیم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 5/ (3485)، وابن حبان (6502) من طريقين عن ابن خثيم، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (5/ 3485) اور ابن حبان (6502) نے عبداللہ بن عثمان ابن خثیم کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا برقم (4797) من طريق أبي بكر بن عياش عن ابن خثيم.
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (4797) پر ابوبکر بن عیاش کے طریق سے مختصراً آئے گی۔