المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5869
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: سَلَمة بن سَلَامة بن وَقْش بن زُغْبة بن زَعُوراء بن عبد الأشهل بن جُمَح بن جُشَم بن الحارثِ بن الخَزْرج بن عمرو بن مالك بن أَوس (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ کے نسب کے متعلق روایت ہے کہ وہ سلمہ بن سلامہ بن وقش بن زغبہ بن زعوراء بن عبد الاشہل بن جمح بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ذكره ابن إسحاق فيمن شهد بدرًا كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 685 - 686 وذكر نَسَبه، لكنه لم يذكر في نسبه جُمح.
اہم نکتہ: ابن اسحاق نے انہیں غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں ذکر کیا ہے، جیسا کہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 685-686) میں ہے اور ان کا نسب بھی ذکر کیا، لیکن ان کے نسب میں "جُمح" کا ذکر نہیں کیا۔
وكذلك قول جميع أهل النسب، لم يذكر أحدٌ منهم في هذا النسب جُمَحَ. انظر "جمهرة الأنساب" لابن حزم ص 339، و "الإنباه على قبائل الرواة" لابن عبد البر ص 104، و "الأنساب" للسمعاني نسبة (الأوسي)، وغيرهم. فيغلب على ظننا أنه مقحم في أصول "المستدرك" من بعض النساخ.
اہم نکتہ: یہی تمام ماہرینِ انساب کا قول ہے، ان میں سے کسی نے بھی ان کے نسب میں "جمح" کا ذکر نہیں کیا۔ دیکھیں: ابن حزم کی "جمهرة الأنساب" (ص 339)، ابن عبدالبر کی "الإنباه" (ص 104) اور سمعانی کی "الأنساب" (نسبت: الاوسی) وغیرہ۔ ہمارا غالب گمان ہے کہ یہ مستدرک کے اصول (نسخوں) میں بعض کاتبوں کی طرف سے "درج" (شامل) ہو گیا ہے۔
اہم نکتہ: ابن اسحاق نے انہیں غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں ذکر کیا ہے، جیسا کہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 685-686) میں ہے اور ان کا نسب بھی ذکر کیا، لیکن ان کے نسب میں "جُمح" کا ذکر نہیں کیا۔
وكذلك قول جميع أهل النسب، لم يذكر أحدٌ منهم في هذا النسب جُمَحَ. انظر "جمهرة الأنساب" لابن حزم ص 339، و "الإنباه على قبائل الرواة" لابن عبد البر ص 104، و "الأنساب" للسمعاني نسبة (الأوسي)، وغيرهم. فيغلب على ظننا أنه مقحم في أصول "المستدرك" من بعض النساخ.
اہم نکتہ: یہی تمام ماہرینِ انساب کا قول ہے، ان میں سے کسی نے بھی ان کے نسب میں "جمح" کا ذکر نہیں کیا۔ دیکھیں: ابن حزم کی "جمهرة الأنساب" (ص 339)، ابن عبدالبر کی "الإنباه" (ص 104) اور سمعانی کی "الأنساب" (نسبت: الاوسی) وغیرہ۔ ہمارا غالب گمان ہے کہ یہ مستدرک کے اصول (نسخوں) میں بعض کاتبوں کی طرف سے "درج" (شامل) ہو گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5869 سے ماخوذ ہے۔