حدیث نمبر: 5839M
قال ابن عُمر: وشَهِدَ سَهْل بن حنُيف بدرًا وأُحدًا، وثَبت مع رسول الله ﷺ يوم أُحد حين انكشفَ الناسُ عنه، وبايعه على الموت، وجعل يَنضَحُ يومئذ بالنَّبْل عن رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: "نَبِّلُوا سهلًا، فإنه سهلٌ". قال: وشهدَ أيضًا الخندقَ والمَشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وشهد مع علي بن أبي طالب صِفِّينَ (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور احد کے دن جب لوگ منتشر ہو گئے تھے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، انہوں نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت کی اور اس دن آپ ﷺ کے دفاع میں مسلسل تیر برساتے رہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سہل کو تیر فراہم کرو کیونکہ وہ خود سہل (یعنی فیاض اور نرم خو) ہیں“، نیز وہ غزوہ خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام معرکوں میں شریک رہے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں بھی شرکت کی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5839M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5839M] [ترقيم الشركة 5785/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ذكر الواقدي في "مغازيه" 1/ 253 قصة سهل بن حنيف يوم أُحُد وقول النبي ﷺ يومئذٍ "نبِّلو سهلًا … " مُصدِّرًا ذلك بقوله: قالوا وهذا يعني أنه رواه عن رجاله الذين تقدَّم ذكرهم في خبر المؤاخاة قبله.
حوالہ / مصدر: واقدی نے "المغازی" (1/ 253) میں غزوہ احد کے دن سہل بن حنیف کا قصہ اور نبی ﷺ کا یہ فرمان: "سہل کو تیر دو..." ذکر کیا ہے، اور اس کی شروعات "قالوا" (راویوں نے کہا) سے کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اسے ان رجال سے روایت کیا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے مواخات کی خبر میں گزر چکا ہے۔
ووقع عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 437 جميع ما جاء هنا من قوله هو مصدِّرًا ذلك بقوله: قالوا: وآخي رسول الله ﷺ بين سهل بن حنيف وعلي بن أبي طالب، شهد سهل بدرًا وأحدًا …
حوالہ / مصدر: ابن سعد کی "الطبقات" (3/ 437) میں یہ سارا بیان موجود ہے اور اس کا آغاز یوں ہوتا ہے: "راویوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سہل بن حنیف اور علی بن ابی طالب کے درمیان بھائی چارہ کرایا، سہل بدر اور احد میں شریک ہوئے..."
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5839 سے ماخوذ ہے۔