المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَهَادَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
قال ابن عُمر: وحدثني عبد الله بن الحارث، عن أبيه، عن عُمارة بن خُزَيمة بن ثابتٍ، قال: شهدَ خُزَيمةُ بن ثابت الجَمَل، وهو لا يَسُلُّ سَيفًا، وشهِدَ صِفِّين، قال: أنا لا أضِلُّ أبدًا حتى يُقتَل عمّارٌ، فأنظُرَ مَن يَقتُلُه، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "تَقتُلكَ الفِئةُ الباغِيَةُ". قال: فلما قُتل عمّار، قال خُزيمةُ: قد حانَتْ لي الضَّلالة، ثم اقترب فقاتَلَ حتى قُتِل، وكان الذي قتل عمارًا أبو غاديةَ المُزَني طَعَنه برُمحٍ فسَقَط، وكان يومئذٍ يُقاتِل وهو ابن أربعٍ وتِسعين، فلما وقع كَبَّ عليه رجلٌ آخرُ فاحتَزَّ رأسَه، فأقبَلا يَختَصِمان كلٌّ منهما يقول: أنا قتلتُه، فقال عَمرو بن العاص: والله إن يَختَصِمان إلَّا في النار، فسَمِعَها منه معاويةُ، فلما انصرف الرجلانِ، قال معاويةُ لعمرو: ما رأيتُ مثلَ ما صنعتَ، قومٌ بَذَلُوا أنفُسَهم دُونَنا، تقولُ لهما: إنكما تختصمانِ في النار؟! فقال عَمرو: هو واللهِ ذاكَ، واللهِ إنك لَتَعْلمُه ولَوَدِدتُ أني مِتُّ قبلَ هذا بعشرين سنةً (2).
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ ان کے والد سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جنگ جمل میں حاضر ہوئے مگر انہوں نے تلوار نہیں سونتی، پھر وہ جنگ صفین میں شریک ہوئے اور فرمایا: میں کبھی گمراہ نہیں ہوں گا یہاں تک کہ عمار شہید کر دیے جائیں، پھر میں دیکھوں گا کہ انہیں کون قتل کرتا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا“، چنانچہ جب سیدنا عمار شہید ہوئے تو سیدنا خزیمہ نے فرمایا: اب میرے لیے (حق کی) وضاحت ہو چکی ہے، پھر وہ آگے بڑھے اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا ابو غادیہ مزنی تھا جس نے انہیں نیزہ مارا تو وہ گر پڑے، وہ اس دن چورانوے برس کی عمر میں قتال کر رہے تھے، جب وہ زمین پر گرے تو ایک دوسرے شخص نے لپک کر ان کا سر مبارک جدا کر دیا، پھر وہ دونوں جھگڑتے ہوئے آئے اور ہر ایک یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ اسے میں نے قتل کیا ہے، تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ دونوں صرف آگ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہیں“، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو جب وہ دونوں چلے گئے تو انہوں نے عمرو بن عاص سے کہا: ”جو تم نے کیا میں نے اس کی مثال نہیں دیکھی، ایک قوم نے ہمارے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں اور تم ان سے کہہ رہے ہو کہ تم آگ کے لیے جھگڑ رہے ہو؟“ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بات وہی ہے، بخدا آپ بھی یہ بات جانتے ہیں، اور میری تو یہ خواہش تھی کہ میں اس واقعے سے بیس سال پہلے ہی فوت ہو گیا ہوتا“۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 239-240) میں اور ان کے طریق سے ابن عساکر (16/ 370 اور 43/ 471) نے محمد بن عمر الواقدی سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: واقدی اس سیاق کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اور وہ "متکلم فیہ" (جرح شدہ راوی) ہیں۔